پاکستان نے ایران امریکہ جنگ بند کرانے کے حوالے سے ثالثی کرکے عالمی سفارتی محاذ پر جو کامیابی حاصل کی تھی اس سے پاکستان کو جو عزت ملی تھی وہ ایران امریکہ جنگ میں شدت آنے کے بعد کہیں گم ہو گئی ہے ویسے جسے ثالثی کہا گیا وہ ثالثی نہیں بلکہ سہولت کاری تھی کیونکہ ثالثی کے لئے ثالت کی پوزیشن کا مستحکم، اعلیٰ اور ارفع ہی نہیں بلکہ اس کا فریقین پر اثر و رسوخ بھی ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ایران امریکہ کسی طور بھی پاکستان کے کہنے سننے میں نہ تھے اور نہ ہیں۔ ایران کے ساتھ تو انقلاب ایران کے بعد سے ہمارے تعلقات دوستانہ نہیں رہے، ایران جتنا امریکہ کا دشمن ہے اتنا ہی اسرائیل کا اور شاید سعودی عرب کا اس سے بھی زیادہ، پاکستان امریکی اتحادی ہے سعودی اتحادی ہے ہمارے دل حرمین شریفین کی موجودگی کے باعث سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں ہمارے لاکھوں کارکن و عمال سعودی عرب میں روزگار کماتے ہیں جن سے ہماری زرمبادلہ کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اس کے برعکس ایران ہمیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھتا، وہ مسلکی برادری کو اپنا حمایتی بنانے میں لگا رہتا ہے۔ ایران نے لبنان، عراق، شام اور یمن میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی کاوشیں کیں وہاں تباہی و بربادی آئی۔ یہ سارے ملک آگ و لہو میں نہا گئے یہ ایران کی اپنی پالیسیوں کی وجہ ہے کہ آج ایران کو اپنی بقا کی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے یہ ایران کی قیادت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج کوئی بھی مسلم ملک ایران کے ساتھ کھڑا دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کے اچھے تعلقات بھارت کے ساتھ ہیں۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہ بہار کی تعمیر و ترقی کے معاہدے میں بھی ڈھلے تھے لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ پاکستان نے ایران امریکہ جنگ بندی کے لئے کاوشیں کیں ایرانی قیادت کو امریکیوں کے ساتھ بٹھایا۔ امریکی و ایرانی 45 سال بعد مذاکرات کی میز پر بیٹھے، معاملات میں بہتری کی صورت پیدا ہوئی لیکن پھر معاملات جنگ کی طرف چلے گئے ایسا ہونے میں جہاں ایرانی قیادت کی غیر حکیمانہ سوچ کا عمل دخل ہے وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی احمقانہ اور بچگانہ اپروچ کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ امریکہ عالمی اقتصادی قوت بھی ہے اور عسکری دیو بھی۔ ایران نصف صدی سے عالمی اقتصادی و فوجی پابندیوں کا شکار ہے اس کی فوجی صلاحیت کتنی ہوگی اس کی معاشی حالت انتہائی مخدوش ہے اس کے باوجود ابھی تک وہ امریکہ جیسی عالمی اقتصادی و فوجی طاقت کے سامنے کھڑا ہے اور اسے اپنی شرائط پیش کررہا ہے۔ جنگ بندی کے لئے پسند کی شرائط پیش کررہا ہے۔ عالمی منظر پر امریکہ کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
ایران امریکہ و اسرائیل دشمن ہی نہیں بلکہ اس کے عرب ممالک کے حوالے سے تحفظات ظاہر ہیں۔ انقلاب ایران کے بعد ایران کا مسلکی تشخص کھل کر سامنے آیا۔ ولایت فقیھ پر قائم ہونے والی ایرانی حکومت نے شیعہ انقلاب برآمد کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا تھا، حالیہ جنگ میں ایرانی ابھی تک سعودی عرب پر حملہ آور نہیں ہوئے لیکن حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب پر جنگ مسلط کی جا چکی ہے۔ ایران کے امریکی مفادات پر داغے جانے والے میزائل ہوں یا چلائے جانے والے ڈرونز، ان سب کا نشانہ عرب ممالک ہیں۔ ایران امریکی مفادات پر حملوں کا نام دے کر عربوں کو تباہ و برباد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ایرانی قیادت خود بھی تقسیم ہے۔ ایک طرف ایران حکومت ہے دوسری طرف پاسداران ہیں۔ آیت اللہ بھی ایک مرکز قوت ہیں۔ایرانی سیاسی قیادت اور انقلابی قیادت کے درمیان اختلافات بڑے واضح ہیں۔ ایرانی عوام پریشان ہیں، معیشت جان بلب ہے، اشیائے خوردونوش کی قلت ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی گرفت نے معاملات میں شدید خرابی پیدا کر رکھی ہے ایسی ہی صورت حال کو دیکھتے ہوئے امریکہ و اسرائیل کا خیال تھا کہ عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایرانی رجیم تبدیل ہو جائے گی لیکن اسرائیل کے ایران پر حملے نے منتشر ایرانی عوام کو متحد کر دیا۔ عوامی نفرت کا رخ اسرائیل اور پھر امریکہ کی طرف مڑ گیا۔ اب جنگ میں ایرانی رجیم کی تبدیلی کا پہلو عملاً ناپید نظر آ رہا ہے۔ پاسداران کی معاملات پر گرفت موثر ہو چکی ہے۔ ایرانی قیادت جنگ کا دائرہ پھیلا رہی ہے۔ مکہ معاہدے کے مطابق پاکستان و ترکی و سعودی عرب ایک دوسرے کے دفاع کے پابند ہیں۔ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کے بعد اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے ویسے پاکستان اس سے پہلے بھی ایران کو سعودی عرب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے منع کرتا رہا ہے۔ اب تو مشورہ نہیں بلکہ خبردار کیا گیا ہے کیونکہ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کی ڈیوٹی بن چکا ہے۔
تاریخ کے طالب علم اور محقق کے طو ر پر میری رائے ہے کہ جنگ پھیل کر رہے گی، جنگ پھیلائی جا رہی ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے مفادات کچھ اس طرح مل گئے ہیں کہ جنگ جاری رکھنے میں ہی خیر نظر آ رہی ہے۔ عربوں کی تباہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کا مشترکہ مفاد ہے۔ سعودی عرب کو اس جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے بلکہ دھکیل دیا گیا ہے۔ حوثی بنیادی طور پر یمن میں ایرانی پراکسی ہیں جس طرح ہرمز کو بند کرکے عربی تیل کی تجارت پر ضرب لگائی گئی ہے بالکل اسی طرح حوثیوں کے ذریعے باب المندب کو بند کرکے تیل کی تجارت کی تباہی میں رہی سہی کسر بھی نکالی جائے گی۔
پاکستان کو اس جنگ میں دھکیل کر پاکستان کو کمزور کرنا امریکی و اسرائیلی مفاد میں ہے، ہماری قومی معیشت انتہائی کمزور ہے، عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں حکومتی اخراجات ان کے زخموں پر نمک کا کام کر رہے ہیں ایسے میں پاکستان کا کسی جنگ میں ملوث ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ویسے ہندوستان آپریشن سندور جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش جا ری ہے، اللہ خیر کرے۔
بشکریہ: روزنامہ پاکستان




