یوں تو چاروں طرف جنریشن زی کی دھوم ہے۔ میرا خیال ہے کہ آج کل کے دور میں جو الفاظ یا ٹرمز سب سے زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں، یا کیے جا رہے ہیں، ان میں جنریشن زی سر فہرست ہے۔ میرا خیال ہے کہ اکثریت کو معلوم ہو گا کہ جنریشن زی کس دور میں پیدا ہونے والی نسل کو کہا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں پاکستان کے ایک سینئر سو کالڈ دانشور کا پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے شدید حیرت ہوئی جب اس نے اپنے مخصوص انداز میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے، چہرہ بگاڑ کر پورے پاکستان کو جاہل مطلق قرار دیتے ہوئے کہا، او بھائی، جنریشن زی کے بعد سب ختم ہے۔ ختم، فل اسٹاپ۔ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ زیڈ انگریزی الفا بیٹ کا سب سے اخری لیٹر ہے تو اب سمجھیے آنے والے سب زمانے جنریشن زی کے ہی رہیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ مجھے حیرت تو ہوئی، مگر پاکستان میں مشہور لوگوں کو دانشور اور دانشمند سمجھنے کی جو غلطی ہم زمانوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں، میرا خیال ہے اب وقت ہے کہ اس چکر ویو سے نکل آئیں۔ سب سے پہلے تو سمجھنے والی بات یہ ہے کہ نسلی ادوار میں، جنریشن زیڈ (جس کی شارٹ فارم جین زی ہے ) یہاں پر زیڈ کسی مخصوص چیز کا مخفف نہیں ہے بلکہ محض اس نسل کو دیا گیا نام ہے جو 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہوئی۔ نسلی ادوار پر ریسرچ کرنے والے محققین اور ذرائع ابلاغ نے، جنریشن ایکس اور جنریشن وائی (میلینیئلز) کے بعد آنے والی نسل کے لیے حروفِ تہجی کا سلسلہ جاری رکھا اور اگلے گروہ کو جنریشن زیڈ کا نام دے دیا۔
تو جن لوگوں کا خیال ہے کہ اب بھی دنیا جہان میں ہونے والی اتھل پتھل، شور شرابے، اکھاڑ پچھاڑ، نعرے بازی، ہلڑ بازی اور اتھلے انقلاب کے پیچھے جین زی کرم فرما ہیں۔ اور چاروں اور بھڑکنے والی آتش نمرود میں کودنے کے لیے لائن میں کھڑے ہیں وہ کہیں نہ کہیں غلطی پر ہیں کیونکہ اب وہ جین زی، جن کی عمریں 28، 29 کو پہنچ چکی رہی ہیں، اور ڈگریاں لے چکے ہیں، وہ یا تو نوکری ڈھونڈ رہے ہیں یا نوکری کر رہے ہیں۔ اور اگر انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی تو اپنی محبوباؤں کے زیر اثر ہیں اور اگر گھوڑی چڑھ گئے ہیں تو فیمنزم تھیوری کے عین مطابق اپنے بچوں کے پوتڑے بدل رہے ہیں۔ اور ہر عام نارمل اور شریف آدمی کی طرح بچت اور کمائی کو بیلنس کرنے کے طریقے سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اور اپنی فیملی کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔
باقی رہی بات ان جین زیوں کی جو ابھی نویں جماعت سے لے کر بڑی جماعت میں زیر تعلیم ہیں یا فی الحال ویلے ای ہیں، ان کی اکثریت کو بھی آٹے دال کا بھاؤ سمجھ میں آ رہا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ لوگ جو ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر بھاشن دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آنے والا ہر دور جنریشن زی کا ہو گا کیونکہ اس کے بعد انگریزی حروف تہجی، تمام شد ہیں۔ ان کے لیے عرض ہے کہ، جین زی کا زمانہ اس حساب سے ختم ہی سمجھے، جس حساب سے انہیں ناپا، تولا اور دیکھا جا رہا تھا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ، جنریشن زی کے بعد آنے والی جنریشن، یعنی جنریشن الفا ( یعنی وہ جنریشن جو 2013 اور 2025 کے درمیان پیدا ہوئی ہے ) کا دور بھی گزر گیا ہے اور جنریشن کوہورٹس کے مطابق اس وقت ہم جنریشن بیٹا کے دور میں ہیں۔ کیونکہ 2025 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو عمومی طور پر جنریشن بیٹا کہا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ، اس وقت یعنی سن 2026 میں، جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے افراد کی عمر، 14 سے لے کر، 29 برس تک ہو سکتی ہے۔ جبکہ جنریشن الفا، سال بھر سے لے کر 12، 13 برس کے ہو سکتے ہیں۔
کیا آپ کو حیرت نہیں ہوتی جب آپ سنتے یا پڑھتے ہیں کہ 12، 13 سالہ لڑکے زیادتی اور قتل جیسے گھناؤنے جرائم میں نامزد ہو رہے ہیں۔ کیونکہ اس عمر کے لوگ تو بچے گردانے جاتے ہیں۔ اور اقوام متحدہ کی رو سے 18 سال سے کم عمر کے لوگ بچے ہی کہلائے جاتے ہیں اور اگر 18 سال کی عمر سے سے قبل وہ کوئی کرائم کرتے ہیں تو وہ کیس جویلینٹ قانون کے تحت چلتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، اس وقت زیادہ تر یورپی ممالک میں، ساؤتھ ایشیائی مائیگرنٹس بالخصوص پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے جو تحریکیں چل رہی ہیں، ان میں جنریشن زی کے ساتھ ساتھ جنریشن الفا بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہی ہے۔ اور یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ جنریشن الفا کا دور محض 11 سال پر محیط ہے۔ اور اس کے بعد ، ایک نئی جنریشن یعنی جنریشن بیٹا کا دور شروع ہو چکا ہے۔ یعنی وہ بچے جو کہ 2026 کے آغاز سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ماضی میں دو جنریشنز کے درمیان کا وقفہ، اس وقفے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسا کیوں ہے اس کا نفسیاتی، طبی یا سماجی جائزہ سماجیات کے ماہرین لے رہے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ موضوع کے اعتبار سے یہ مناسب ہو گا کہ سماجی محققین اور مارکیٹنگ کے ماہرین کے مرتب کردہ نسلی ادوار کا مختصر جائزہ یہاں پیش کیا جائے۔
لوگوں کو مختلف نسلی ادوار میں تقسیم کرنے کا تصور کافی پرانا ہے، لیکن جدید نسلی ادوار کے نام دوسری جنگِ عظیم کے بعد زیادہ مقبول ہوئے۔ نسلی ادوار، یعنی ایسے نام یا اصطلاحات جو ان لوگوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں جو مخصوص ادوار میں پیدا ہوئے ہوں اور جن کے سماجی، ثقافتی اور تکنیکی تجربات عمومی طور پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں۔

خاموش نسل (Silent Generation) 1 :
خاموش نسل میں شامل افراد کی عمریں اس وقت 81 سے 89 سال کی ہوں گی۔ انہیں خاموش نسل کہنے کی ایک وجہ یہ تصور بھی ہے کہ وہ اپنے جذبات یا سیاسی اختلافات کا اظہار بعد کی نسلوں کے مقابلے میں نسبتاً محتاط انداز میں کرتے تھے۔ تاہم ”خاموش“ کا مطلب یہ نہیں کہ پوری نسل واقعی خاموش یا غیر فعال تھی۔ یہ نسل ایسے تاریخی حالات میں پروان چڑھی جس میں عظیم کساد معاشی یعنی گریٹ ڈپریشن، دوسری جنگ عظیم ( 1945۔ 1939 ) اور جنگ کے بعد کی معاشی اور سماجی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ ریڈیو اور پھر ٹیلی ویژن کا پھیلاؤ شامل تھے۔ اس نسل کی نمایاں خصوصیات میں سنجیدگی، خاموشی اور تحمل کے ساتھ محنت، ذمہ داری، کفایت شعاری، نظم و ضبط اور روایت کی پاسداری شامل ہیں۔ یعنی خاندان، معاشرتی اصول، مذہبی و ثقافتی روایات اور بڑوں کا احترام ان کی زندگی میں نسبتاً زیادہ اہم سمجھے جاتے تھے۔ شادی، خاندان، بچوں کی پرورش اور معاشرتی ذمہ داریوں کو بہت اہم سمجھا جاتا تھا۔ ایک ہی ادارے یا پیشے میں طویل عرصے تک کام کرنا نسبتاً عام تھا۔ ملازمت کو استحکام اور ذمہ داری کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ یہ لوگ جدید ڈیجیٹل دنیا میں پیدا نہیں ہوئے تھے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نسل نے عمر کے آخری حصے میں اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز بھی دیکھیں۔
بیبی بومرز (Baby Boomers) 2 :
بیبی بومرز کا نام دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدائش کی شرح میں ہونے والے بڑے اضافے کی وجہ سے رکھا گیا۔ اس نسل کی عمریں اس وقت 61 سے 80 سال کے درمیان ہوں گی۔ یہ نسل دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی بچوں کی بڑی تعداد کے دور میں پروان چڑھی۔ یہ نسل، جنگ کی تباہ کاریاں دیکھتے سنتے، شکست و ریخت کے بعد ترقی، شہری حقوق اور سماجی تبدیلیوں کے اہم ادوار سے گزری۔ عموماً انہیں مستقل مزاج، ذمہ دار اور محنتی نسل کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ محنت، ملازمت میں استحکام اور مالی بچت کو اہمیت دینا اس نسل کی نمایاں خصوصیات سمجھی جاتی ہیں۔ خاندان، شادی اور روایتی سماجی اقدار ان کے لیے عموماً بہت اہم رہیں۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور بعد میں کمپیوٹر جیسی ٹیکنالوجی کو انہوں نے اپنی زندگی میں ترقی کرتے دیکھا۔
جنریشن ایکس (Generation X) 3 :
جنریشن ایکس کو عملی، خودمختار، لچک دار اور حقیقت پسند نسل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی عمریں اس وقت 45 سے 61 سال کے درمیان ہیں۔ یہ نسل روایتی دنیا اور ڈیجیٹل دنیا کے درمیان ایک پل سمجھی جاتی ہے۔ اس میں خود انحصاری اور اپنے فیصلے خود کرنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ محنت، عملی سوچ اور مسئلے خود حل کرنے کی صلاحیت اس نسل کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ یہ نسل اپنے کام کو لے کر بہت سنجیدہ رہی ہے، مگر یہ وہ جنریشن ہے جو کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن کو اہمیت دیتی ہے۔ اس نسل نے خاندانی اقدار کے ساتھ ساتھ ذاتی آزادی کو بھی اہم سمجھا۔ اس جنریشن نے بچپن میں انٹرنیٹ کے بغیر دنیا دیکھی اور بعد میں کمپیوٹر، موبائل فون اور انٹرنیٹ کو اپنایا۔
جنریشن وائی/ میلینیئلز (Millennials / Generation Y) : 4
4: جنریشن جنریشن وائی کے لئے میلینیئلز کی اصطلاح اس لیے مقبول ہوئی کیونکہ یہ لوگ تقریباً 2000 ء کے آس پاس نوجوانی سے عملی زندگی میں داخل ہو رہے تھے۔ یعنی نئی صدی کے آغاز کے وقت یہ نسل بالغ ہو رہی تھی۔ میلینیئلز یعنی جنریشن وائی میں شامل افراد کی عمریں اس وقت 29 سے 45 برس کے درمیان ہیں۔ یہ نسل اینالاگ اور ڈیجیٹل دونوں دنیاؤں سے واقف ہے۔ اس نے کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیا کی ترقی کو اپنی زندگی میں آتے دیکھا۔ تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کو خاص اہمیت دی۔ کام میں صرف تنخواہ کے بجائے مقصد، آزادی اور کام کے بہتر ماحول کو بھی اہم سمجھا۔ روایتی ملازمت کے ساتھ ساتھ فری لانسنگ، آن لائن کام اور کاروبار کے نئے طریقوں کی طرف بھی مائل ہوئی۔ عالمی ثقافت، سفر اور مختلف معاشروں سے رابطے کے مواقع اس نسل کو پہلے کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ حاصل ہوئے۔ عمومی طور پر اسے ٹیکنالوجی سے مانوس، تعلیم یافتہ، لچک دار اور تبدیلی کو قبول کرنے والی نسل کہا جاتا ہے۔
جنریشن زیڈ (Generation Z / Gen Z) 5 :
جنریشن زیڈ 5 ، یعنی جین زی جو کہ 1997 سے لے کر 2012 تک پیدا ہونے والی نسل ہے، کی نمایاں خصوصیات یہ ہے کہ یہ پہلی ایسی نسل سمجھی جاتی ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مثلاً اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ماحول میں بڑی ہوئی۔ یہ نسل معلومات حاصل کرنے کے لیے گوگل، یوٹیوب، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کا وسیع استعمال کرتی ہے۔ مختصر بصری مواد مثلاً ویڈیوز، میمز اور مختصر پوسٹس سے زیادہ مانوس ہے۔ تعلیم اور کام کے لیے بھی آن لائن ذرائع کے استعمال سے زیادہ مانوس ہے۔ روایتی طریقوں کے بجائے لچک دار کام، آن لائن کاروبار اور نئی پیشہ ورانہ راہوں کی طرف بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ مختصراً یہ کہ جنریشن زیڈ وہ نسل ہے جس نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی کا معمول نہیں بلکہ بنیادی ماحول سمجھ کر پرورش پائی اور سرچ انجنز کی مدد سے اپنے ارد گرد کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کے بارے میں آگاہی اور اپنی رائے کا اظہار کرنے میں نسبتاً زیادہ فعال ہے۔
جنریشن الفا (Generation Alpha) 6 :
جنریشن زیڈ پر انگریزی حروفِ تہجی کا سلسلہ ختم ہونے کے، نئی آنے والی نسلوں کو نام دینے کے لیے یونانی حروفِ تہجی سے دوبارہ آغاز کیا گیا۔ جنریشن الفا 2013 سے 2024 کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کو کہا جاتا ہے۔ یہ جنریشن زیڈ کے بعد آنے والی نسل ہے۔ یہ نسل اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، انٹرنیٹ اور سمارٹ ڈیوائسز کے ماحول میں پیدا ہوئی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی ان کی تعلیم اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ یہ نسل آن لائن ویڈیوز، گیمز اور انٹریکٹو مواد سے زیادہ مانوس ہے۔ تعلیم میں ڈیجیٹل اور آن لائن ذرائع کا استعمال ان کے لیے بالکل فطری ہے۔ اس نسل کا دنیا بھر کے لوگوں، زبانوں اور ثقافتوں سے انٹرنیٹ کے ذریعے کم عمری میں ہی رابطہ ہو جاتا ہے۔ یہ نسل ایسے مستقبل میں جوان ہوگی جہاں روبوٹکس، خودکاری اور سمارٹ ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی میں مزید عام ہوں گی۔ اس نسل کی پرورش انتہائی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ماحول میں ہو رہی ہے۔
جنریشن بیٹا (Generation Beta) 7 :
7: جنریشن بیٹا اس سلسلے میں اگلی مجوزہ اصطلاح ہے۔ چونکہ یہ بالکل نسل ہے، اس لیے اس کی حتمی خصوصیات ابھی معلوم نہیں ہو سکتیں۔ عموماً 2025 سے 2039 کے درمیان پیدا ہونے والوں کو جنریشن بیٹا کہا جا رہا ہے۔ بظاہر اس جنریشن کی ممکنہ خصوصیات یہ ہے کہ یہ نسل مصنوعی ذہانت کے ساتھ اپنی پیدائش ہی سے واقف ہوگی۔ روبوٹس، اسمارٹ ڈیوائسز اور خودکار نظام ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ تعلیم میں اے آئی اساتذہ، ورچوئل کلاسز اور ذاتی نوعیت کی تعلیم زیادہ عام ہو سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی ان کے لیے محض ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی حصہ ہو سکتی ہے۔ یہ نسل ایسے ماحول میں پروان چڑھے گی جہاں انسان اور روبوٹس مل کر کام کریں گے۔ ممکن ہے کہ ان میں نئی ٹیکنالوجی سیکھنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت پچھلی تمام نسلوں سے زیادہ ہو۔ ان کے روزگار اور پیشوں کی بہت سی شکلیں آج کے مقابلے میں بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔
ان اصطلاحات کے ضمن میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ اصطلاحات سائنسی طور پر نہیں بلکہ عمومی سماجی وضاحت کے طور پر استعمال ہوتی ہیں محققین ان اصطلاحات کو مختلف عمومی رجحانات پر گفتگو کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ٹیکنالوجی کا استعمال اور اسے اپنانا، کام کرنے کے انداز یا سوچنے کے طریقے، سیاسی، سماجی، ثقافتی خیالات اور تجربات۔ مثال کے طور پر جنریشن زیڈ، اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ماحول میں پروان چڑھی، جبکہ بہت سے بیبی بومرز ایسے دور میں بڑے ہوئے جب ٹیلی ویژن نئی ٹیکنالوجی تھا۔ اس لے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ 1996 میں پیدا ہونے والے شخص اور 1997 میں پیدا ہونے والے شخص کے تجربات ایک دوسرے سے بہت زیادہ ملتے جلتے ہو سکتے ہیں، حالانکہ ایک کو عموماً میلینیئل اور دوسرے کو جنریشن زیڈ میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ثقافت، ملک، سماجی طبقہ، تعلیم اور خاندانی پس منظر اکثر نسلی ادوار کی پہچان کی نسبت زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ جنریشن ایکس، وائی اور زیڈ کے بعد جنریشن الفا کیوں مرتب کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انگریزی حروفِ تہجی ”زیڈ“ تک پہنچنے کے بعد ، محققین نے آنے والی نسلوں کو پہچان دینے یا نام رکھنے کے لیے ایک نیا نظام تلاش کیا۔ اور یوں یونانی حروفِ تہجی کا انتخاب کیا گیا۔ یونانی حروفِ تہجی کا پہلا حرف ”الفا“ ہے۔ الفا کے عام مفاہیم، آغاز، پہلا یا ایک نئی ابتدا کے ہیں۔ لہٰذا جنریشن الفا بنیادی طور پر وہ پہلی نسل تھی/ہے جس کا نام یونانی حروفِ تہجی کی بنیاد پر رکھا گیا۔ اسی سلسلے کے تحت جنریشن الفا کے بعد آنے والی نسل کو جنریشن ”بیٹا“ کہا گیا۔ بیٹا، دراصل یونانی حروف تہجی کا دوسرا حرف ہے۔ ”بیٹا“ کا مطلب محض ”دوسرا“ ہے۔ اسے اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ الفا کے بعد آتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ اس نسل کے بچے دیگر جنریشنز کے لوگوں کے مقابلے میں کسی لحاظ سے بہتر یا بدتر ہوں گے۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو مستقبل میں آنے والی نسلوں کے لیے گاما اور ڈیلٹا وغیرہ کے نام بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں جو کہ یونانی حروف تہجی کا تسلسل ہوں گے۔
بشکریہ: ہم سب




