ہما یحییٰ خٹک ای وی ٹیکنالوجیز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جو الیکٹرک موبیلیٹی کے شعبے میں کام کرنے والی پاکستانی کمپنی ہے اور ایلفا الیکٹرک برانڈ کے تحت مصنوعات پیش کرتی ہے۔ وہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔
ای وی ٹیکنالوجیز، پاکستانی ٹیکنالوجی گروپ ویوٹیک کے تحت کام کرتی ہے، جسے تحقیق، مصنوعات کی تیاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی جدت کے شعبے میں چار دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔
بی آر ریسرچ نے حال ہی میں ہما یحییٰ خٹک سے پاکستان میں ابھرتی ہوئی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ کو درپیش مواقع اور چیلنجز پر گفتگو کی۔ گفتگو کے منتخب اور ترمیم شدہ اقتباسات پیش خدمت ہیں:
بی آر ریسرچ : دو پہیہ گاڑیوں کے شعبے میں بڑے پیمانے پر برقی منتقلی سے ایندھن کی درآمدات، گھریلو سفری اخراجات اور مجموعی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ہما یحییٰ خٹک : پاکستان میں دو پہیہ گاڑیوں کے معاملے کو کاربن اخراج سے زیادہ معاشی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 3 کروڑ 90 لاکھ 90 ہزار ہے، جن میں 3 کروڑ 4 لاکھ 60 ہزار موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔
پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل پر ایندھن کی لاگت تقریباً 8 روپے فی کلومیٹر آتی ہے، جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکل پر بجلی کی لاگت تقریباً 1 سے 1.5 روپے فی کلومیٹر ہے۔ تاہم اصل لاگت ایندھن کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں اور ڈرائیونگ کے حالات کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔ زیادہ فاصلہ طے کرنے والے مسافروں، ڈیلیوری رائیڈرز اور موٹر سائیکل پر انحصار کرنے والے دیگر گھرانوں کے لیے یہ فرق ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت اور قابلِ استعمال آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
قومی سطح پر اس کے معاشی اثرات مزید اہم ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اب بھی ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا پیٹرولیم درآمد کرتا ہے، جبکہ ملک میں استعمال ہونے والے تقریباً 40 فیصد پیٹرول کی کھپت دو اور تین پہیہ گاڑیوں میں ہوتی ہے۔ اس لیے اس شعبے کو بجلی پر منتقل کرنا صرف ٹرانسپورٹ کی ترجیح نہیں بلکہ معاشی اور توانائی کے تحفظ کی بھی اہم ترجیح ہے۔
بی آر آر : پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو محدود طبقے کی مارکیٹ سے نکال کر بڑے پیمانے پر مقبول بنانے میں بنیادی رکاوٹیں کیا ہیں؟
ہما یحییٰ خٹک : میں رکاوٹوں کو تین باہم جڑے ہوئے شعبوں میں تقسیم کروں گی: ابتدائی خریداری کی لاگت، فنانسنگ کا نظام اور صارفین کا اعتماد۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی طلب کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ انہیں بڑے پیمانے پر اپنانے کے لیے درکار پورے نظام میں رکاوٹ ہے۔
پہلی رکاوٹ ابتدائی قیمت ہے۔ عام طور پر الیکٹرک موٹر سائیکل کی قیمت روایتی 70 سی سی موٹر سائیکل سے زیادہ ہوتی ہے، حالانکہ اس کے چلانے کے اخراجات نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ ایسے صارفین، خصوصاً وہ افراد جو اپنی ماہانہ تنخواہ سے موٹر سائیکل خریدتے ہیں، ان کے لیے تین یا چار سال کے مجموعی اخراجات کے مقابلے میں ابتدائی قیمت اور ایڈوانس رقم زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے صنعت کو صرف الیکٹرک گاڑی فروخت کرنے کے بجائے اسے عام صارف کی مالی استطاعت کے مطابق قابلِ رسائی بنانے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
دوسری بڑی رکاوٹ فنانسنگ ہے اور پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام (پی اے وی ای) کا تجربہ اس حوالے سے بہت کچھ واضح کرتا ہے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 41 ہزار گاڑیوں کے ہدف کے مقابلے میں 2 لاکھ 69 ہزار 149 درخواستیں موصول ہوئیں، جو صارفین کی مضبوط دلچسپی کا واضح ثبوت ہے، مگر بینکوں کو بھیجی گئی 44 ہزار 689 درخواستوں میں سے صرف 4 ہزار 75 درخواستیں منظور ہوئیں، جبکہ مئی کے آغاز تک صرف 5 ہزار 409 الیکٹرک دو اور تین پہیہ گاڑیاں فراہم کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ صارفین الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے لیے تیار ہیں لیکن روایتی ریٹیل فنانسنگ کا نظام ابھی بڑے پیمانے پر اس شعبے کو قرض فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
پی اے وی ای کے پہلے مرحلے میں ایلفا کا تجربہ بھی اسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ صارفین کی طلب کے لحاظ سے یہ برانڈ شریک کمپنیوں میں سرفہرست تین سے چار کمپنیوں میں شامل رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب معیاری مصنوعات اور مؤثر مالی معاونت دستیاب ہو تو صارفین الیکٹرک موٹر سائیکلیں اپنانے کے لیے تیار ہیں۔
تیسری رکاوٹ صارفین کا اعتماد ہے، بالخصوص بیٹری کے حوالے سے نمایاں ہے۔ صارفین بیٹری کی عمر، تبدیلی کی لاگت، ایک چارج پر طے ہونے والے فاصلے، دوبارہ فروخت کی قدر، وارنٹی اور فروخت کے بعد خدمات کے بارے میں زیادہ یقین دہانی چاہتے ہیں۔ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر پذیرائی صرف سبسڈی سے حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے معیاری مصنوعات، قابلِ اعتماد وارنٹی، بیٹری کے مناسب معیار، مؤثر بعد از فروخت سروس نیٹ ورک اور ایسی فنانسنگ درکار ہے جو الیکٹرک گاڑی کے کم سفری اخراجات کو مدنظر رکھے۔
بی آر آر : خریداری کی قیمت، فنانسنگ، بجلی، دیکھ بھال، بیٹری کی تبدیلی اور دوبارہ فروخت کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایلفا الیکٹرک موٹر سائیکل کی ملکیت کی مجموعی لاگت پیٹرول موٹر سائیکل کے مقابلے میں کتنی ہے؟
ہما یحییٰ خٹک : درست موازنہ صرف خریداری کی قیمت کی بنیاد پر نہیں بلکہ موٹر سائیکل کی پوری مدتِ استعمال کے دوران ملکیت کی مجموعی لاگت کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ زیادہ فاصلہ طے کرنے والے صارفین کے لیے یہ حساب تیزی سے الیکٹرک موٹر سائیکل کے حق میں جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ایلفا ای وی 125 کی قیمت ٹیکس کے علاوہ 3 لاکھ 45 ہزار روپے ہے، جس میں 72 وولٹ/32 ایمپیئر آور کی لائف پی او 4 بیٹری نصب ہے اور یہ 100 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرسکتی ہے۔ بیٹری پر تین سال یا 50 ہزار کلومیٹر، جو بھی پہلے مکمل ہو، کی وارنٹی بھی دی جاتی ہے۔
روزانہ 40 کلومیٹر سفر کی صورت میں ہمارے سیونگ کیلکولیٹر کے مطابق پیٹرول موٹر سائیکل پر سالانہ ایندھن کا خرچ تقریباً 1 لاکھ 19 ہزار 720 روپے جبکہ EV125 پر بجلی کا خرچ تقریباً 16 ہزار 60 روپے بنتا ہے۔ یوں سالانہ تقریباً 1 لاکھ 4 ہزار روپے کی ممکنہ بچت ہوسکتی ہے۔ تاہم حقیقی بچت سفر کی مسافت، ایندھن کی قیمت اور بجلی کے نرخوں کے مطابق مختلف ہوگی۔
دیکھ بھال کے اخراجات بھی الیکٹرک گاڑی کے حق میں ہیں کیونکہ اس میں انجن آئل، آئل فلٹر اور انجن ٹیوننگ کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ طویل مدت میں بیٹری اس لاگت کا اہم حصہ ہے جسے مدنظر رکھنا ہوگا۔ فنانسنگ کی شرائط اور دوبارہ فروخت کی قیمت بھی سرمایہ واپس آنے کی مدت پر اثرانداز ہوتی ہے، اسی لیے میں کسی ایک عمومی مدت کا دعویٰ کرنے کے بجائے ہر صارف کے استعمال اور فنانسنگ پروفائل کا الگ جائزہ لینے کو ترجیح دوں گی۔
بنیادی بات سادہ ہے : الیکٹرک موٹر سائیکل کی خریداری پر ابتدائی لاگت زیادہ ہوسکتی ہے، لیکن باقاعدگی سے موٹر سائیکل چلانے والے صارف کے لیے اسے رکھنا اور چلانا مجموعی طور پر کہیں کم خرچ ہوسکتا ہے۔ یہی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی اصل معاشی افادیت ہے۔
بی آر آر : بیٹری کی قیمت، ایک چارج پر فاصلہ، چارجنگ کا وقت، حفاظت اور مفید عمر کے حوالے سے کون سی پیش رفت پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے استعمال میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتی ہے؟
ہما یحییٰ خٹک : پاکستان کی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ کے لیے میں چار چیزوں پر توجہ دوں گی: قیمت، قابلِ استعمال سفری فاصلہ، بیٹری کی عمر اور حفاظت۔ چارجنگ کی رفتار بھی اہم ہے، لیکن ایسی موٹر سائیکل جسے رات بھر چارج کیا جاسکتا ہو، اس کے لیے قابلِ اعتماد کارکردگی اور بیٹری کی طویل عمر زیادہ اہم ہے۔
عالمی سطح پر بیٹری کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ بلومبرگ این ای ایف کے مطابق 2025 میں لیتھیم آئن بیٹری پیک کی اوسط قیمت 108 ڈالر فی کلو واٹ آور کی ریکارڈ کم سطح پر آگئی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہے۔ ایل ایف پی بیٹری پیک کی اوسط قیمت 81 ڈالر فی کلو واٹ آور رہی، جبکہ این ایم سی بیٹری پیک کی قیمت 128 ڈالر فی کلو واٹ آور تھی، جس سے ایل ایف پی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی لاگت کی برتری ظاہر ہوتی ہے۔
ایل ایف پی بیٹری ٹیکنالوجی عالمی سطح پر مارکیٹ میں اپنا حصہ بھی بڑھا رہی ہے، خصوصاً بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں میں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق 2025 میں ایل ایف پی بیٹری پیک اوسطاً این ایم سی بیٹریوں کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ سستے تھے اور اب الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں میں ان کا حصہ نصف سے زیادہ ہوگیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ بیٹری پیک کی مقامی اسمبلنگ، بیٹری مینجمنٹ، ٹیسٹنگ اور کوالٹی کنٹرول میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے کا موقع ہے۔ اس سے لاگت کم کرنے کے ساتھ ساتھ مینوفیکچررز کو حفاظت اور بیٹری کی پوری مدتِ استعمال کی کارکردگی پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔
حقیقی پیش رفت صرف سستی یا تیزی سے چارج ہونے والی بیٹری نہیں بلکہ ایسی بیٹری کی تیاری ہے جو قابلِ استطاعت، محفوظ، پائیدار اور پوری مدتِ استعمال کے دوران قابلِ اعتماد کارکردگی فراہم کرے۔ یہی چیز الیکٹرک موٹر سائیکلوں کو ابتدائی صارفین کے مرحلے سے نکال کر بڑے پیمانے کی مارکیٹ تک پہنچائے گی۔
بی آر آر : صنعت کو بڑے پیمانے پر ترقی دینے سے قبل چارجنگ، فروخت کے بعد خدمات، اسپیئر پارٹس، تکنیکی مہارت، سپلائی چین اور دوبارہ فروخت کی مارکیٹ میں کن خلا کو دور کرنے کی ضرورت ہے؟
ہما یحییٰ خٹک : الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے حوالے سے انفرااسٹرکچر کی کمی کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار گھر یا کام کی جگہ پر اپنی گاڑی چارج کرسکتے ہیں، اس لیے فوری ترجیح اپارٹمنٹس میں رہنے والے اور ایسے افراد کے لیے محفوظ اور آسان چارجنگ سہولت فراہم کرنا ہے جن کے پاس مخصوص پارکنگ کی جگہ نہیں ہوتی۔ حکومت کی نیشنل الیکٹرک وہیکل (این ای وی) پالیسی میں بھی اس ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے، جس کے تحت نئے بلڈنگ کوڈز میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ کی سہولت کی گنجائش لازمی قرار دینے اور 2030 تک 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس سے بڑا چیلنج فروخت کے بعد خدمات کے نظام کا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی موٹر سائیکلوں کی مرمت کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، تاہم الیکٹرک پاور ٹرین کے لیے موٹرز، کنٹرولرز، تشخیصی نظام اور بیٹری مینجمنٹ سے متعلق نئی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔این ای وی پالیسی میں بھی افرادی قوت کی تربیت، معیار و حفاظتی معیارات اور مقامی مینوفیکچرنگ کو منتقلی کے اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔ ای ایل ایف اے میں ہمارا طریقہ کار موجودہ موٹر سائیکل مرمت کے نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ہم مکینکس کی تربیت کا نظام تیار کر رہے ہیں ، تاکہ ٹیکنیشنز اعتماد کے ساتھ الیکٹرک پاور ٹرین کی سروس کرسکیں۔
بی آر آر : گزشتہ آٹو پالیسی ختم ہوچکی ، نئی پالیسی میں تاخیر ہورہی ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مراعات بھی صرف ایک سال کے لیے بڑھائی گئی ہیں، ایسی صورت حال صنعت میں قیمتوں، سرمایہ کاری اور مصنوعات کی منصوبہ بندی کو کس طرح متاثر کر رہی ہے؟
ہما یحییٰ خٹک : پالیسی کی سمت واضح ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے زیادہ طویل مدتی یقین دہانی درکار ہے۔ پاکستان کی این ای وی پالیسی 2025-30 کا ہدف ہے کہ 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچایا جائے، اس طرح حکومت نے مستقبل کی سمت واضح کردی ہے۔
فوری مسئلہ یہ ہے کہ وسیع تر آٹو پالیسی 2026-31 کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی جاری ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی (اے آئی ڈی ای پی) 2021-26 جون 2026 کے اختتام پر ختم ہوگئی، جبکہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے تحت بعض الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق ٹیکس مراعات جون 2027 تک بڑھا دی ہیں۔ اس سے قلیل مدت میں تسلسل ضرور ملتا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے لیے صرف ایک سال کی یقین دہانی کافی نہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات کے بعد پانچ سالہ آٹو پالیسی کے مسودے کو مزید نظرثانی کے لیے واپس کردیا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ مقامی پیداوار سے متعلق فیصلے سالانہ بنیاد پر نہیں کیے جاتے۔ مشینری، بیٹری پیک کی اسمبلنگ، مقامی سپلائرز کی تیاری، تکنیکی تربیت اور ڈیلر نیٹ ورک کے لیے کئی سال کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ جب مالیاتی فریم ورک صرف 12 ماہ کے لیے واضح ہو اور طویل مدتی پالیسی ابھی تشکیل کے مراحل میں ہو تو کمپنیاں فطری طور پر سرمایہ کاری مرحلہ وار کرتی اور خطرات سے زیادہ محتاط انداز میں نمٹتی ہیں۔
بی آر آر : مستقل طور پر سبسڈی یا تحفظ پر انحصار پیدا کیے بغیر الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ٹیکس، ٹیرف، معیارات اور ضوابط میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں؟
ہما یحییٰ خٹک : الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے لیے فوری ترجیح بیٹریوں، چارجرز، کنٹرولرز اور برقی حفاظتی نظام کے یکساں اور مستقل معیارات کا نفاذ ہے۔ حکومت پہلے ہی ایک اہم قدم اٹھا چکی ہے، وزارت صنعت و پیداوار نے پی ایس کیو سی اے کو لیتھیم آئن گاڑیوں کی بیٹریوں کے لیے معیارات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں حفاظت، پائیداری، حرارتی کارکردگی اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز شامل ہیں۔
ٹیکس اور ٹیرف کے معاملے میں مراعات کو بتدریج مقامی ویلیو ایڈیشن سے جوڑنا چاہیے۔ درآمد شدہ پرزوں کو صرف اسمبل کرنے اور بیٹری پیک، الیکٹرانکس، پرزہ جات، ٹیسٹنگ اور انجینئرنگ میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے میں فرق ہے۔ ٹیرف کا نظام اس فرق کو تسلیم کرے اور مینوفیکچررز کو ویلیو چین میں بتدریج اوپر جانے کی ترغیب دے۔
بی آر آر : آئندہ پانچ برس میں الیکٹرک موٹر سائیکل کے کون سے پرزے حقیقتاً مقامی طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں اور مقامی پیداوار کی راہ میں اس وقت کیا رکاوٹیں ہیں؟
ہما یحییٰ خٹک : پاکستان میں پہلے ہی دو پہیہ گاڑیوں کے پرزہ سازوں کا مضبوط نظام موجود ہے، جو ہمارے لیے ایک اہم ابتدائی فائدہ ہے۔ فریم، باڈی پینلز، سیٹیں، وائرنگ ہارنسز اور متعدد مکینیکل پرزے مقامی طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں، جبکہ موٹرز، کنٹرولرز، چارجرز اور بیٹری پیک کی اسمبلنگ آئندہ پانچ برس میں مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے حقیقت پسندانہ شعبے ہیں۔
اس سے بڑا موقع صرف اسمبلنگ تک محدود رہنے کے بجائے زیادہ قدر رکھنے والے الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات اور صلاحیتوں کی تیاری کی طرف بڑھنا ہے۔ حکومتی بیانات کے مطابق پاکستان کی روایتی موٹر سائیکل صنعت میں مقامی مواد کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہے، تاہم الیکٹرک گاڑیوں میں مقامی پیداوار کا اندازہ صرف مقامی طور پر حاصل کیے جانے والے پرزوں کی تعداد کے بجائے ان کی مجموعی مالیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ مالیت رکھنے والے پرزے، خصوصاً بیٹری سیلز اور بعض الیکٹرانک اجزا، اب بھی بڑی حد تک درآمد کیے جاتے ہیں۔
ای ایل ایف اے میں ہمارا مقصد صرف مقامی پرزوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انجینئرنگ الیکٹرانکس، سافٹ ویئر، ٹیسٹنگ اور سسٹمز انٹیگریشن میں مقامی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ یہی صلاحیتیں طویل مدت میں زیادہ قدر پیدا کرتی ہیں اور بالآخر پاکستان کو صرف مقامی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنا سکتی ہیں۔
بی آر آر : ای ایل ایف اے کی موجودہ پیداواری صلاحیت، فروخت کا حجم اور مقامی پیداوار کی سطح کیا ہے اور آئندہ تین سے پانچ برس کے لیے کمپنی نے کیا اہداف مقرر کیے ہیں؟
ہما یحییٰ خٹک : ہم پیداواری صلاحیت، مقامی پیداوار اور فروخت کے بعد خدمات کی صلاحیت کو ساتھ ساتھ بڑھاتے ہوئے ذمہ دارانہ انداز میں کاروبار کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ای ایل ایف اے کے پاس اس وقت ماہانہ ایک ہزار سے زائد موٹر سائیکلیں تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت موجود ہے، جسے بڑھا کر ماہانہ 2 ہزار سے زائد یونٹس کیا جارہا ہے۔ ہم اب تک 2 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلیں فروخت کرچکے ہیں جبکہ تقریباً 3 ہزار مزید یونٹس کے آرڈرز موجود ہیں، جن کی فراہمی دسمبر 2026 تک مکمل کی جائے گی۔
اب ہم 2027 میں ہی 25 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکلیں تیار اور فراہم کرنے کی تیاری کررہے ہیں، جبکہ اس کے بعد بھی مزید توسیع کا منصوبہ ہے۔ اس توسیع کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، وسیع تر سیلز اور آفٹر سیلز نیٹ ورک، سپلائرز کی ترقی اور مقامی تکنیکی صلاحیت میں بہتری شامل ہوگی۔
موٹر سائیکل کے مکینیکل پرزوں کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی مقامی طور پر حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ بیٹری سیلز اور بعض اعلیٰ مالیت والے برقی اجزا درآمد کیے جاتے ہیں۔ ہماری مقامی پیداوار کی حکمت عملی صرف مقامی پرزوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ بیٹری پیک اسمبلنگ، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، سافٹ ویئر، ٹیسٹنگ اور سسٹمز انٹیگریشن میں اعلیٰ قدر کی مقامی صلاحیت پیدا کرنے پر بھی مرکوز ہے۔
الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ کے لیے فنانسنگ بھی اتنی ہی اہم ہے۔ وسل موبیلیٹی مضاربہ کے ساتھ ہماری شراکت داری شریعہ سے ہم آہنگ فنانسنگ کے مواقع فراہم کرتی ہے، جس سے ابتدائی قیمت کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بی آر آر : مزید مقامی اسمبلرز اور درآمد شدہ الیکٹرک موٹر سائیکل برانڈز پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہورہے ہیں، ایسے میں ای ایل ایف اے ان کا مقابلہ کیسے کرے گی؟
ہما یحییٰ خٹک : کسی بھی شعبے میں مسابقت صحت مند ہوتی ہے۔ زیادہ قابلِ اعتماد مینوفیکچررز کی آمد سے صارفین میں آگاہی بڑھتی ہے، سپلائرز کے لیے کاروباری مواقع بہتر ہوتے ہیں اور پوری صنعت تیزی سے سیکھتی ہے۔ مارکیٹ پہلے ہی مضبوط رفتار کا مظاہرہ کررہی ہے۔ 2025 میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ 2026 کے ابتدائی اعداد و شمار بھی مسلسل ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس لیے اب چیلنج یہ ثابت کرنا نہیں کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مارکیٹ موجود ہے، بلکہ ایسی کیٹیگری تشکیل دینا ہے جس پر صارفین اعتماد کرسکیں۔
سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ صنعت میں مسابقت صرف قیمت کی بنیاد پر ہونے لگے۔ کم قیمت والی ایسی موٹر سائیکل جس کی بیٹری ناقص ہو، سروس نیٹ ورک محدود ہو یا وارنٹی کی سہولت کمزور ہو، خریداری کی لاگت تو کم کرسکتی ہے، لیکن صارف کے مجموعی اخراجات بڑھا دیتی ہے اور پوری کیٹیگری پر اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہماری حکمت عملی ملکیت کے مجموعی تجربے کی بنیاد پر مسابقت کرنا ہے، جس میں مقامی انجینئرنگ، بیٹری اور گاڑی کا معیار، آسان فنانسنگ، فروخت کے بعد خدمات اور قابلِ اعتماد سروس شامل ہیں۔ویوٹیک کے ذریعے ہماری ٹیکنالوجی کی بنیاد ہمیں انجینئرنگ اور مصنوعات کی تیاری میں اضافی برتری فراہم کرتی ہے۔




