نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

شیئر کریں

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نئے صوبوں کے قیام کے اپنے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر کوئی بھی فیصلہ عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

ہفتے کو لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث اس وقت زور پکڑ گئی جب محسن نقوی نے ملک کے انتظامی ڈھانچے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں طرزِ حکمرانی کو عوام کے قریب لاسکتی ہیں۔

اس معاملے پر متعدد نئے صوبوں کی تجاویز سامنے آچکی ہیں، جن میں اختیارات کی مزید نچلی سطح تک منتقلی اور پنجاب و سندھ کے بعض حصوں میں الگ انتظامی اکائیاں قائم کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں، جبکہ مخالفین نے اس اقدام سے پیدا ہونے والی سیاسی، مالی اور انتظامی پیچیدگیوں سے خبردار کیا ہے۔

وزیرِ داخلہ نے ہفتے کو وضاحت کی کہ ان کے بیانات کا تعلق کسی مخصوص سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ اس ’’نظام‘‘ سے ہے جو ملک کے قیام کے بعد سے رائج ہے۔

محسن نقوی نے کہا، ’’اس معاملے پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایسا معاملہ نہیں کہ کل یا پرسوں ہی کچھ ہونے والا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لاہور، سندھ میں کراچی، خیبر پختونخوا میں پشاور اور بلوچستان میں کوئٹہ جیسے بڑے شہروں کے برابر کوئی دوسرا شہر موجود نہیں۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان کو طویل عرصے سے موجود خامیوں کو دور کرنے اور شہریوں کو بہتر نتائج فراہم کرنے کے لیے اپنے نظام کا جائزہ لے کر اس میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

انہوں نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی تجویز کی بھی حمایت کی اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو زیادہ مضبوط مالی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے