مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا موجودہ اسلامی جمہوری نظام اپنی تاریخ کے بدترین اور کمزور ترین دور سے گزر رہا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے فوجی حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تہران میں قائم موجودہ مذہبی نظام کا اقتدار سے خاتمہ اب ناممکن نہیں رہا ہے۔ انہوں نے اپنے عزائم کا اظہار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کوششوں سے اس خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا اب ہماری دسترس میں ہے۔
قابض ریاست کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ اسرائیل کے تزویراتی اہداف میں سرِفہرست ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حالات بدل چکے ہیں اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس ایرانی نظام کو اقتدار سے ہٹا کر خطے میں تبدیلی لائی جائے۔
یاد رہے کہ صہیونی حکام کئی دہائیوں سے ایران کی موجودہ قیادت کو اپنی قومی سلامتی اور وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے آئے ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ بیان خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور ایران اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے اس جارحانہ بیان سے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ میں مزید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب تہران کی جانب سے ابھی تک اس بیان پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی حلقے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو اپنے لیے چیلنج قرار دیتا رہا ہے۔ نیتن یاہو کی اس حالیہ تقریر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ تل ابیب اب ایران کے اندرونی نظام کو نشانہ بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
یہ صورتحال خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس بیان کے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ امریکا اور اسرائیل کے ایران مخالف اتحاد کا یہ اعلانیہ بیان تہران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی ایک مربوط حکمت عملی معلوم ہوتا ہے۔




