لاہور میں خواتین پر تشدد اور زیرحراست ہلاکتوں پر جماعت اسلامی کا اظہار تشویش

شیئر کریں

لاہور: جماعت اسلامی لاہور نے شہر میں خواتین پر مبینہ تشدد، زیادتی اور زیرحراست ہلاکتوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام معاملات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لٹن روڈ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی لاہور کی پبلک ایڈ کمیٹی کے نگران وقاص احمد بٹ، صدر قیصر شریف اور سیکرٹری شاہد نوید ملک نے کہا کہ غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور بچی سے مبینہ زیادتی جبکہ ٹاؤن شپ تھانے میں زیرحراست دو خواتین کی مبینہ ہلاکت کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں کوئی پولیس اہلکار یا دیگر افراد ذمہ دار ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران خواتین پر تشدد اور زیادتی کے 414 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 54 گینگ ریپ اور بچوں سے زیادتی کے 386 کیسز بھی سامنے آئے، خواتین کے تحفظ کے لیے محض اعلانات کافی نہیں، عملی اقدامات اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔

انہوں نے جعلی پولیس مقابلوں کا سلسلہ روکنے اور سیاسی کارکنوں سمیت تمام شہریوں کے قانونی حقوق یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اسٹیشن شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا مرکز ہونا چاہیے۔

قیصر شریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پولیس کو شہریوں سے عزت و احترام سے پیش آنے اور پولیس اصلاحات کے اقدامات کا اعلان کیا تھا، پولیس کے رویوں میں مطلوبہ تبدیلی نظر نہیں آئی، پولیس اصلاحات کے لیے مقررہ مدت گزرنے کے باوجود تشدد، مبینہ زیادتی اور بدسلوکی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

جماعت اسلامی رہنماؤں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ خواتین سے زیادتی اور زیرحراست ہلاکتوں کے واقعات کا مؤثر نوٹس لیا جائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے،پولیس کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر شہریوں کا اداروں پر اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خواتین کے خاندانوں کو قانونی معاونت فراہم کی جائے گی جبکہ شہریوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

 


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے