لاڑکانہ: لاڑکانہ کے قریب گاؤں گل محمد کھوسو کے رہائشی جتوئی اور باگڑی برادری کے افراد نے مبینہ طور پر چوری شدہ سونے کے زیورات، نقد رقم اور دیگر سامان کی عدم واپسی کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور کنگا تھانے کی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
اس موقع پر احتجاج کرنے والے بزرگ محنت کش محمد پریل جتوئی نے موريل جتوئی، گولا رام، مٹھا رام باگڑی، رام کلی، خمیسو باگڑی اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گاؤں میں نامعلوم چوروں نے خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے جبکہ چوری کی وارداتوں میں تیزی آ گئی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف اوقات میں چور رات کے وقت گھروں میں داخل ہو کر سونے کے زیورات، نقد رقم، سولر پلیٹس، پنکھے، واٹر موٹرز، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان چوری کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعدد بار کنگا تھانے میں اطلاع دینے کے باوجود پولیس چوروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوریاں پولیس کی سرپرستی میں ہو رہی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ چند روز قبل نامعلوم چور محمد پریل جتوئی کے گھر سے واٹر موٹر اور سولر پلیٹ چوری کر کے لے گئے تھے، جس کی اطلاع بھی پولیس کو دی گئی مگر تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ، ایس ایس پی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر کنگا تھانے کے ایس ایچ او، بڑے منشی اور دیگر اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جائے، چوروں کے خلاف کارروائی کر کے چوری شدہ سامان واپس دلایا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

رپورٹ: نادر مائری


