عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے فوراً بعد تازہ گوشت سے مختلف پکوان تیار کرنے کا رجحان عام ہے تاہم طبی اور سائنسی ماہرین اس حوالے سے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہیں کہ فوراً استعمال کیا جانے والا گوشت ہاضمے اور صحت کے لیے بعض صورتوں میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جانور کے ذبح ہونے کے بعد اس کے پٹھوں میں ایک قدرتی عمل کے تحت وقتی سختی پیدا ہو جاتی ہے، جس کی بنیادی وجہ جسم میں موجود توانائی فراہم کرنے والا مادہ اے ٹی پی ختم ہونا ہے۔
ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس کمی کے باعث پٹھوں کے ریشے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر سخت ہو جاتے ہیں، جس سے گوشت اپنی نرمی کھو دیتا ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اس کیفیت کو ریگر مورٹس کہا جاتا ہے، جو عموماً ذبح کے چند گھنٹوں بعد شروع ہو کر تقریباً 12 سے 24 گھنٹوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس مرحلے میں گوشت نسبتاً سخت ہوتا ہے اور انسانی نظامِ ہاضمہ کے لیے اسے توڑنا اور ہضم کرنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض افراد کو بدہضمی، پیٹ درد، گیس اور اپھارہ جیسی شکایات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور کمزور ہاضمے کے حامل افراد کے لیے یہ کیفیت زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ماہرین یہ بھی وضاحت کرتے ہیں کہ ذبح کے بعد گوشت کے اندر موجود قدرتی خامرے آہستہ آہستہ سرگرم ہو جاتے ہیں جو پروٹین کے سخت ریشوں کو نرم کرتے ہیں۔
اس قدرتی عمل کو گوشت کا پختہ ہونا یا کنڈیشننگ کہا جاتا ہے، جس کے بعد گوشت نہ صرف نرم بلکہ زیادہ ذائقہ دار بھی ہو جاتا ہے۔ اگر گوشت کو فوراً پکایا جائے تو یہ قدرتی عمل مکمل نہیں ہو پاتا، جس کے باعث ذائقے اور نرمی میں کمی محسوس کی جاتی ہے۔
مزید برآں ماہرین نے ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ گرم موسم میں اگر گوشت کو مناسب طریقے سے محفوظ نہ کیا جائے تو اس پر جراثیم تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔
اگرچہ مکمل اور درست درجہ حرارت پر پکانے سے زیادہ تر جراثیم ختم ہو جاتے ہیں، لیکن ابتدائی مرحلے میں احتیاط نہ برتی جائے تو صحت کے مسائل کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
طبی رائے کے مطابق بہترین طریقہ یہی ہے کہ قربانی کے گوشت کو کم از کم 12 سے 24 گھنٹے تک ٹھنڈی جگہ یا فریج میں رکھا جائے تاکہ اس کی قدرتی سختی کم ہو جائے اور وہ ہضم کرنے کے قابل بن سکے۔ بڑے جانوروں کے گوشت کے لیے یہ وقفہ زیادہ اہم قرار دیا جاتا ہے۔
اگر فوری طور پر پکانے کی ضرورت ہو تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ گوشت کو بڑے ٹکڑوں کے بجائے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جائے اور اسے ہلکی آنچ پر طویل وقت تک پکایا جائے تاکہ یہ اچھی طرح گل جائے اور ممکنہ جراثیم بھی ختم ہو جائیں۔
تاہم مجموعی طور پر صحت کے نقطہ نظر سے یہی بہتر سمجھا جاتا ہے کہ گوشت کو مناسب وقفہ دینے کے بعد ہی استعمال کیا جائے تاکہ ذائقہ اور صحت دونوں برقرار رہ سکیں۔




