جدہ (نمائندہ خصوصی،تعمیر وطن) سعودی عرب میں مستقبل میں پاکستان سے ماہرین افرادی قوت کی بڑی گنجائش ہوگی ہمیں اس پہ سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، یہ بات فوکل پرسن برائے سعودی عرب فوجی فاؤنڈیشن (اوورسیز ایمپلائمنٹ سروسز) محمد یاسین نے قونصل جنرل پاکستان سید مصطفیٰ ربانی سے ملاقات کے بعد کہی ،انہوں نے کہا کہ قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے ملاقات کے دوران اس حوالے سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے، محمد یسین نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت بڑھانے کیلئے اہم اداروں سے رابطے اور سیمینارز کا انعقاد کرنے کا اعادہ کیا،قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان سے تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے یہاں، دوسری بات یہ کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ آزاد ویزہ نام کی کوئی کٹیگری نہیں ہے،لہذا قانونی ادار اور مستند ذرائع سے سعودی عرب آئیں تاکہ ملک اچھا امیج بنے
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ملازمت کے ان مواقع کی تلاش اور فروغ دینے کے لیے میڈیا سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائیگا، اک سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی وژن 2030 سے مملکت کو ایک متنوع اور نجی شعبے کی قیادت میں چلنے والی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے جہاں تیل پر انحصار کم کرکے دیگر شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے وہیں سعودی عرب میں کان کنی اور معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، صحت، دفاعی صنعت، سیاحت، ثقافتی ورثہ، کھیل اور تفریح جیسے شعبے میں پاکستان کیلئے بڑے اچھے مواقع ہیں تاہم اس کیلئے ہمیں سنجیدگی سے کام کرنے اور اک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے
پاکستانی بزنس مین محمد یاسین کی قونصل جنرل پاکستان سید مصطفیٰ ربانی سے ملاقات، پاکستان سے افرادی قوت کے حوالے سے گفتگو




