بیجنگ: مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چین نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے فوری اور جامع جنگ بندی اب ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ تباہی کو روکا جا سکے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران میں جاری تنازع شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس جنگ نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس جنگ نے عالمی معیشت اور تجارتی راستوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جاری کشیدگی کے اثرات عالمی سپلائی چین، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی عالمی ترسیل پر انتہائی منفی پڑ رہے ہیں۔ چین نے حالیہ امریکا ایران جنگ بندی کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا راستہ ہر صورت کھلا رہنا چاہیے۔
چین نے زور دیا کہ سفارت کاری ہی مسائل کے حل کا واحد درست راستہ ہے جبکہ طاقت کا استعمال ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ عالمی سپلائی چین کی بحالی کے لیے خلیجی سمندری راستوں اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کو جلد از جلد فعال کرنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے چین صدر شی جنپنگ کے پیش کردہ چار نکاتی وژن کے مطابق اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ چین اور پاکستان نے بھی مشترکہ طور پر خطے میں امن بحال کرنے کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ تجویز کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی برادری اب اس کوشش میں ہے کہ خطے کو کسی بڑی تباہ کن جنگ سے محفوظ رکھا جائے۔
مستقبل میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ چین کا یہ واضح پیغام مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نئی جہت دینے اور تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا ایک اہم مطالبہ ہے۔




