ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کا طرزِ عمل سفارتی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور حالیہ اقدامات نے مذاکراتی عمل کو خطرات کی طرف دھکیل دیا ہے، واشنگٹن کی پالیسی “سفارتکاری کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے” کے مترادف ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
فرانسیسی صدر کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران ایرانی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ تہران نے متعدد مرتبہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا، تاہم ہر بار بات چیت کے ساتھ ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بھی دیکھنے میں آیا، جس سے اعتماد سازی کا عمل متاثر ہوا۔ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایران پر دوبارہ حملوں کی یقین دہانی دی جائے اور اس حوالے سے واضح ضمانت فراہم کی جائے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج جب بھی کوئی عسکری کارروائی کرتی ہیں تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے، جبکہ ایران طویل عرصے سے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس کے تسلسل کا ذمہ دار رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں اور دباؤ کی پالیسی خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے اور جب تک ان اقدامات میں نرمی نہیں آتی، مذاکراتی پیش رفت ممکن نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی صدر نے گفتگو کے دوران ایرانی صدر کو متحدہ عرب امارات میں شہری تنصیبات اور بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو صورتحال کو مزید بگاڑ دیں۔
فرانسیسی صدر نے اس موقع پر یہ مؤقف بھی اپنایا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور کسی بھی قسم کی رکاوٹوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس تنازع کے حل کے لیے ایک کثیرالملکی مشن تشکیل دیا جا سکتا ہے، جس میں مختلف ممالک کی شمولیت سے خطے میں استحکام کی کوشش کی جائے، وہ اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات چیت کے خواہاں ہیں تاکہ مشترکہ سفارتی حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
ادھر صورتحال مجموعی طور پر بدستور کشیدہ دکھائی دیتی ہے، جہاں ایک طرف ایران امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہا ہے تو دوسری جانب یورپی ممالک خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔




