عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے تحت نیشنل تھیلے سیمیا کانفرنس 2026 کا کامیاب انعقاد

شیئر کریں

کراچی: عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے تحت مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی نیشنل تھیلے سیمیا کانفرنس 2026منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ماہرینِ طب، پالیسی ساز، سماجی رہنما، صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کانفرنس پاکستان میں تھیلے سیمیا جیسے سنگین اور بڑھتے ہوئے مرض کے علاج، روک تھام، آگاہی اور قومی سطح پر پالیسی سازی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔

کانفرنس کے موقع پر ملک کے معروف ماہرِ امراضِ خون ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری کی کتابComprehensive Thalassemia Management & Prevention Protocols for Pakistan کی رونمائی بھی کی گئی۔کانفرنس میں عمیر ثناء فاؤنڈیشن کی گزشتہ دو دہائیوں پر مشتمل خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جس میں تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں آگاہی اور پری وینشن مہمات کو بھی سراہا گیا۔

اس موقع پر ماہرِ امراضِ خون ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے اپنی جدید اور انقلابی تحقیق پیش کی، جسے شرکاء نے خطے میں تھیلے سیمیا کے علاج کے میدان میں ایک اہم اور امید افزا پیش رفت قرار دیا۔ ان کی تحقیق پر مبنی نئے طریقہ علاج کو پاکستان میں تھیلے سیمیا کے مریضوں کے لیے ایک ممکنہ “گیم چینجر” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں بیماری کے بوجھ کو کم کرنے کی امید ظاہر کی گئی۔

تھیلے سیمیا کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں تھیلے سیمیا کی روک تھام سے متعلق منظور شدہ قراردادوں اور صوبائی سطح پر نافذ قوانین پر فوری اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ محض قانون سازی کافی نہیں بلکہ عملی نفاذ کے بغیر تھیلے سیمیا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔ماہرین نے اپنے خطابات میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے تھیلے سیمیا کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر ایک جامع قومی حکمت عملی، مضبوط اسکریننگ نظام، اور شادی سے قبل آگاہی و تشخیص کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے

کانفرنس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ تھیلے سیمیا کے خاتمے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹرز، تعلیمی ادارے، میڈیا، سول سوسائٹی، اور مذہبی رہنما مشترکہ کردار ادا کریں گے تاکہ ایک مضبوط قومی تحریک تشکیل دی جا سکے۔

شرکاء نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کی زندگی کا دار و مدار خون کی باقاعدہ منتقلی پر ہے، اور پاکستان میں رضاکارانہ خون عطیہ کے کلچر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس حوالے سے قومی سطح پر آگاہی اور بلڈ ڈونیشن نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی۔

کانفرنس کے اختتام پر عمیر ثناء فاؤنڈیشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تھیلے سیمیا کے خلاف جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا اور ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری کی تحقیق کو عملی سطح پر لانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔نیشنل تھیلے سیمیا کانفرنس 2026 کو شرکاء نے ایک تاریخی اور بامقصد پیش رفت قرار دیا، جس نے پاکستان میں اس مرض کے خلاف ایک نئی قومی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تقریب سے سینیٹر روبینہ قائمخانی،صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ،رکن قومی اسمبلی صادق میمن،اراکینِ صوبائی اسمبلی عادل انٹر،فرحان فاروق،ڈاکٹر فوزیہ حمید،سند ھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سیکریٹری ڈاکٹر در ناز جمال،،ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ،دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیر سید کرار حسین،سابق کرکٹر یونس خان،شعیب محمد اور دیگر نے خطاب کیا۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے