سندھ سالڈ ویسٹ کے منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرکے کرپشن کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے، اپوزیشن لیڈر

شیئر کریں

کراچی: قائد حزب اختلاف بلدیہ عظمیٰ کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے جام چاکرو لینڈ فل سائٹ کا دورہ کرتے ہوئے شہر میں صفائی کے ناقص نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور تمام متعلقہ منصوبوں کے آزادانہ فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سیف الدین ایڈووکیٹ نے ٹاؤن چیئرمینوں کے ہمراہ سرجانی ٹاؤن کے علاقے جام چاکرو لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبوں اور انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کراچی کا صفائی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور شہر ایک بڑی کچرا کنڈی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے 43 ارب روپے کے بھاری بجٹ کے باوجود شہریوں کو بنیادی صفائی کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی، انجینئرڈ لینڈ فل سائٹس اور گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ جام چاکرو منصوبے سمیت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ منصوبوں کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کچرا اٹھانے کا نظام مؤثر نہیں رہا، گلی محلوں میں کچرا جمع ہے جبکہ شہر بھر میں قائم گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز پر بھی صفائی کا عمل غیر تسلی بخش ہے،اصل منصوبے کی لاگت ابتدا میں 16 ارب 80 کروڑ روپے تھی جو بعد میں بڑھ کر 29 ارب 21 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جبکہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہو کر بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ جدید انجینئرڈ نظام کے ذریعے کچرے سے بجلی پیدا کی جائے گی اور صفائی کا نظام عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، شہر میں جاری متعدد ترقیاتی منصوبے بدانتظامی اور کرپشن کا شکار ہیں، جس کے باعث عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر فورم پر شہر کے مسائل کو اجاگر کرتی رہے گی،اس موقع پر ٹاؤن چیئرمینز اور دیگر مقامی نمائندے بھی موجود تھے، جنہوں نے شہر میں صفائی کے نظام کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے