راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے راشن کے حوالے سے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور لاکھوں روپے کی خورد برد کے الزامات پر انکوائری تاحال شروع نہیں ہو سکی۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے قیدیوں کے لیے ہفتہ وار مرغی کے گوشت کا بجٹ فراہم کیے جانے کے باوجود انہیں اکثر اوقات دالیں دی جاتی ہیں، جبکہ گوشت کے نام پر مختص رقم مبینہ طور پر ہڑپ کر لی جاتی ہے۔
درخواست کے مطابق صرف گزشتہ ایک سال کے دوران مرغی کے گوشت کی مد میں ایک کروڑ 15 لاکھ 24 ہزار روپے سے زائد کی رقم میں خورد برد کا الزام ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مبینہ طریقہ واردات کے تحت ہفتے میں ایک مرتبہ گوشت فراہم نہ کر کے اس کی جگہ دال دی جاتی ہے، اور مہینے میں متعدد بار اسی طریقے سے رقوم کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل میں روزانہ جمع ہونے والے روٹی کے ٹکڑوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی مبینہ طور پر ماہانہ 45 لاکھ روپے سے زائد کی بدعنوانی کی جا رہی ہے۔
اڈیالہ جیل سے متعلق ان الزامات پر محکمانہ انکوائری کا آغاز نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ کارروائی سامنے نہیں آئی۔




