لاڑکانہ:سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن لاڑکانہ کی میزبانی میں آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے تحت وکلا کا اہم کنونشن سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ میں منعقد ہوا، جس میں سندھ بھر کے ضلعی، تعلقہ اور ڈویژنل بارز کے صدور، جنرل سیکریٹریز، سینئر وکلا اور قانونی ماہرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کنونشن میں کراچی بار کے صدر اور سینئر وکیل عامر نواز وڑائچ، میزبان بار لاڑکانہ کے صدر اطہر عباس سولنگی، کے بی لغاری، حسیب پنهور، لاڑکانہ بار کے نائب صدر جاوید بلیدی سمیت دیگر ممتاز وکلا شریک ہوئے۔

خطاب کرتے ہوئے عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ ہم ہمیشہ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، مگر افسوس کہ مورو میں ہونے والی گزشتہ وکلا میٹنگ کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کے 300 سے زائد وکلا نے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے وکلا اب دو واضح گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، ایک گروپ حکومت کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ دوسرا قانون کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی، لاڑکانہ اور ملیر سمیت کئی بارز کو حکومتی فنڈز نہیں دیے جا رہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ 9 اگست کو "مورو مارچ” کے تحت حیدرآباد ہائی کورٹ سے پریس کلب تک ایک احتجاجی مارچ کیا جائے گا، جس میں سندھ بھر کے وکلا شریک ہوں گے، جبکہ 16 اگست کو سندھ ہائی کورٹ سے وزیر اعلیٰ ہاؤس یا صوبائی اسمبلی تک مارچ کر کے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا۔عامر نواز وڑائچ نے مورو واقعے کی صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے فوری عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔کنونشن کے آغاز سے قبل پیپلز لائرز فورم اور مخالف وکلا گروپ کے درمیان تلخی اور کشیدگی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث فورم کے ضلعی صدر ریاض سومرو اور سندھ ہائی کورٹ بار لاڑکانہ کے جنرل سیکریٹری آصف چانڈیو کی قیادت میں متعدد وکلا نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور بار روم میں بیٹھ گئے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف چانڈیو نے الزام عائد کیا کہ بار کے صدر اطہر عباس سولنگی نے وکلا کو اعتماد میں لیے بغیر نوابشاہ میں کنونشن کا اعلان کیا، ہمیں صرف رات گئے اطلاع ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ کنونشن میں ایسے پرائیویٹ افراد اور لا کالج کے طلبہ کو بھی شامل کیا گیا جن کا ابھی داخلہ بھی نہیں ہوا، جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف غیر ضروری تقاریر کی گئیں، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

رپورٹ : نادر مائری




