لاڑکانہ: لاڑکانہ میں شہیدِ جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش بھٹو میں عقیدت و احترام کے ساتھ عوامی جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید بی بی کو گزرے 18 سال ہو چکے ہیں مگر آج بھی عوام کی بڑی تعداد کا یہاں جمع ہونا قاتلوں اور دہشتگردوں کے لیے واضح جواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا یہ ساتھ اور محبت ہی ہماری اصل طاقت ہے، جسے ہم اسلام آباد لے جا کر عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مئی میں پاکستان کی افواج نے بھارت کو جنگی میدان میں شکست دی، جو پوری قوم کی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی گڑھی خدا بخش بھٹو کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہ تھی۔

انہوں نے پاک چین دوستی، سی پیک اور دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے پاکستان کا عالمی سطح پر وقار بلند ہوا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملک کو معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دار سیاست کی ضرورت ہے۔ انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے صوبائی حقوق، این ایف سی ایوارڈ کے تحفظ اور آئینی عدالت کے قیام جیسے نکات پر اپنا مؤقف منوایا، جو پارٹی اور عوام کی بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، بجلی، گیس، ادویات اور تعلیم سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔

پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ان مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے۔ انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے 20 لاکھ گھروں کی تعمیر، خواتین کو زمین اور گھروں کی ملکیت، اور مفت علاج کی سہولیات کا ذکر کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ اور گمبٹ انسٹی ٹیوٹ جیسے اداروں کو پیپلز پارٹی کی فلاحی پالیسیوں کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں میں پورے ملک سے مریض مفت علاج کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے مفاہمت ناگزیر ہے اور سیاسی انتہا پسندی نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو کا آخری پیغام بھی مفاہمت تھا اور آج بھی ملک کو اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنا ہے تو تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک کو ایک بار پھر ترقی اور استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔

نادر خان مائری




