صحت کے شعبے میں اہم سنگ میل: پاکستان میں پہلی بار بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی نافذ

شیئر کریں

اسلام آباد: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مسلسل اور منظم کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی کو باضابطہ طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد اس پالیسی کے نفاذ کو ماہرین صحت ایک تاریخی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف ملک میں خون اور اس سے جڑی مصنوعات کے نظام میں بہتری آئے گی بلکہ صحت کے شعبے میں خود انحصاری کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔

قومی بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی کی تیاری اور نفاذ میں ایس آئی ایف سی نے کلیدی کردار ادا کیا، جس نے بین الوزارتی اور بین الصوبائی تعاون کو مؤثر انداز میں ممکن بنایا۔

طویل عرصے سے زیر التوا اس پالیسی کے نفاذ کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی پیدا کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک جامع، مربوط اور جدید خطوط پر مبنی فریم ورک سامنے آیا۔ یہ پالیسی خون کے محفوظ حصول، ذخیرہ اندوزی، تقسیم اور استعمال کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

اس پالیسی کے تحت صحت اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک انقلابی قدم کے طور پر ’’پلازما فریکشینیشن‘‘ کے طریقہ کار کو متعارف کرایا گیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے خون کے پلازما سے مختلف قیمتی ادویات اور مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، جو ماضی میں بڑی حد تک بیرون ملک سے درآمد کی جاتی تھیں۔

ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار کے آغاز سے پاکستان پلازما سے حاصل ہونے والی مصنوعات میں بتدریج خود کفالت کی جانب بڑھے گا، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچے گا بلکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی سہولت بھی میسر آئے گی۔

یہ پالیسی پاکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ پلازما سے ماخوذ مصنوعات کی تیاری کے بعد ان کی برآمدی صلاحیت پیدا ہو گی، جس سے ملک کے لیے نئی معاشی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔

صحت کے شعبے کو معیشت کے ایک فعال جزو کے طور پر فروغ دینے کی یہ کوشش حکومت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس میں علاج کے ساتھ ساتھ تحقیق، پیداوار اور برآمدات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

سیکرٹری بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی سندھ ڈاکٹر درناز جمال کے مطابق ایس آئی ایف سی کے تعاون سے ایک ایسی پالیسی نافذ العمل ہو سکی جو طویل عرصے سے حل طلب تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی سنجیدہ اور جامع کوششوں کا واضح مظہر ہے اور اس سے خون کے نظام میں شفافیت، معیار اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

ماہر ہیماٹالوجسٹ بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر نزہت مشاہد نے بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایف سی، تمام متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ماہرین صحت نے مشترکہ طور پر اس پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ قومی سطح کا اقدام مریضوں، معالجین اور مجموعی صحت کے نظام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے