جامعہ کراچی کا تینتیسواں سالانہ جلسہ تقسیم اسنادکا انعقاد، جلسہ تقسیم اسناد میں تعلیمی سال 2023 ء مارننگ وایوننگ پروگرام کے مختلف شعبہ جات کے 7248 طلباوطالبات کو ڈگریاں تفویض
کراچی : جامعہ کراچی کا تینتیسواں سالانہ جلسہ تقسیم اسنادہفتہ کے روزایکسپوسینٹر میں منعقد ہوا جس کی صدارت گورنر سندھ وچانسلر جامعہ کراچی محمد کامران خان ٹیسوری نے کی۔ جلسہ تقسیم اسناد میں تعلیمی سال 2023 ء مارننگ وایوننگ پروگرام کے مختلف شعبہ جات کے 7248 طلباوطالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں ،اسی طرح 60 طلباوطالبات کو مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی جبکہ 43 طلبہ کو ایم فل اور02 طلبہ کو ایم ایس کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔تفصیلات کے مطابق 2023 ء کے امتحانات میں پوری جامعہ کی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈٹیکنالوجی کی حافظہ اقصیٰ انورکو طلائی تمغہ سے نوازاگیا جبکہ کلیہ جات کی سطح پر 2023 ء کے امتحانات میں کلیہ فنون وسماجی علوم میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی انزیلہ،کلیہ تعلیم میں شعبہ اسپیشل ایجوکیشن کی رابعہ شہباز،کلیہ معارف اسلامیہ کے شعبہ علوم اسلامی کی مریم،کلیہ قانون میں علشبہ جیلانی،کلیہ نظمیات وانتظامی علوم میں شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ہانیہ ساجداورکلیہ علم الادویہ میں عمامہ کو طلائی تمغوں سے نوازاگیا۔ اسی طرح کلیہ علوم میں کلیہ کی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے پرانسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈٹیکنالوجی کی حافظہ اقصیٰ انوراور کلیہ انجینئرنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر زین عادل کو طلائی تمغوںسے نوازاگیا۔جلسہ تقسیم اسناد میں آنرز،ماسٹرزاور بی ایس پروگرام سال2023 ء کے مختلف شعبہ جات کے مارننگ وایوننگ پروگرام میں پوزیشن حاصل کرنے والے 244 طلباوطالبات کوگولڈ میڈل تفویض کئے گئے۔جن شعبہ جات میں ڈگریاں تفویض کی گئیں ہیں ان میں بی اے( آنرز)،بی ایس سی (آنرز)،بی اے۔ایل ایل بی،بی بی اے،بی ایڈ (آنرز)،بی پی اے (آنرز)،بی ایس (اکنامکس اینڈ فائنانس)،بی ایس (کمپیوٹشنل میتھمیٹکس)،بی ایس (فائنینشل میتھمیٹکس)،بی ایس (ہیومن ریسورس)،بی ایس(سپلائی چین مینجمنٹ)، بی ایس بی اے،بیچلرآف لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس،بی ایس(پبلک ایڈمنسٹریشن)،بیچلرزآف ڈیزائن،بیچلرزآف فائن آرٹس ،بیچلرزآف آرکیٹیکچر، بی ایس سی ایس،بی ایس ایس ای، آڈیولوجی اینڈ اسپیچ پیتھالوجی ،ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی،ایگزیکیٹوایم بی اے،ایم اے، ایم ایس سی،ایم پی اے،ایم بی اے ، ایم سی ایس ،پی جی ڈی اور فارم ڈی شامل ہیں۔جلسہ تقسیم اسناد میں 60طلبہ کو پی ایچ ڈی ،32 طلبہ کوایم فل جبکہ ایک طالبعلم کو ڈی ایس سی اور ایک طالبعلم کو ایم ایس کی ڈگری تفویض کی گئی۔ جس میں کلیہ فنون وسماجی علوم میں 11 طلباوطالبات کو پی ایچ ڈی جبکہ 09 کوایم فل ،کلیہ نظمیات انتظامی علوم میں10 طلبہ کو پی ایچ ڈی جبکہ ایک طالبعلم کو ایم فل کی ڈگری تفویض کی گئی،کلیہ علوم میں 21 طلباوطالبات کو پی ایچ ڈی جبکہ15 طلباوطالبات کو ایم فل کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔کلیہ علم الادویہ میں 07 طلبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔کلیہ تعلیم میں 06 طلبہ کو پی ایچ ڈی جبکہ 06 طلبہ کو ایم فل کی ڈگریاں تفویض کی گئیںاور کلیہ قانون میں04 طلبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاںتفویض کی گئیں۔ ڈی ایس سی کی ڈگری شعبہ کیمیاء جبکہ ایم ایس کی ڈگریاں گائناکولوجی اورآپریٹوڈینٹسٹری میں تفویض گئیں۔گورنرسندھ محمد کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ اس جلسہ گاہ میں سب سے اہم اورآج کے دن کے منتظر ان تمام طلباوطالبات کے والدین ہیں جنہوں نے 16 سال اس دن کاانتظارکیااوراپنے بچوں کو اس قابل بنایا کہ وہ آج اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے اہل ہوئے ہیں۔آج اس جلسہ تقسیم اسناد میں کچھ طالبات نے تین تین میڈل بھی حاصل کئے جو بہت خوش آئند ہے،لیکن کیا یہ عملی زندگی میں پاکستان کے نظام میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔یہ طالبات جو اپنی زندگی کے 16 سال دن اور رات محنت کرتی ہیں اور تین تین گولڈ میڈل حاصل کرتی ہیں پھر یہ منظر عام سے کیوں پیچھے چلی جاتی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ اس معاشرے میں ایک ماں جو یہ توچاہتی ہے کہ اس کی بیٹی اس معاشرے میں سب کچھ کرے لیکن وہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کی بہو چاہے وہ تین گولڈ میڈل حاصل کرے وہ بھی اسی طرح معاشرے میں اپنا حصہ ڈالیں ،اس تفریق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔گورنرسندھ نے مزید کہا کہ آج ہم نے اسلام کے نام پر یہ ملک حاصل توکرلیا لیکن حقوق العباد کو ہم بھول چکے ہیں ،جب تک حقوق العباد پر عمل نہیں ہوگا یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ہمارے بزرگوں قائد اعظم محمد علی اور علامہ محمد اقبال نے ہمیں ایک آئیڈیل پاکستان دیا تھا لیکن بدقسمتی سے ان کے بعد سے لے کر آنے والے ادوارتک یہ آئیڈیل پاکستان نہیں ،ہم آپ کو آئیڈیل پاکستان نہیں دے سکے۔اب آئیڈیل پاکستان آپ کے ہاتھوں ہے ،آپ نے بناناہے،اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو مایوس نہیں ہوناہے۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کسی کے لئے اپنے دل میں حسد نہ لانا کیونکہ یہ حسد جب دل میں آتی ہے تویہ سمجھ لینا کہ کفر دل میں آگیاہے۔منفی سوچ کو نظر انداز اور مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔چیئر مین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسرڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو اپنے نوجوان نسل جوکہ مجموعی آبادی کا 62 فیصدہیں کو ہرلحاظ سے تیار کرنے کی ضرورت ہے ،جامعات میں بچوںکو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی کوبھی یقینی بنایاجائے ۔بحیثیت استاد ہماری ترجیح صرف کتابوں اور امتحانات تک محدود نہیں ہونی چاہیئے بلکہ ان نوجوانوں کو ایک اچھا اورقابل طالبعلم بنانے کے ساتھ ساتھ ان کو ایک اچھا انسان بنانابھی اس ملک،معاشرے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے۔سندھ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لئے 42 ارب اور ڈیولپمنٹ فنڈ کے لئے 08 ارب روپے مختص کئے ہیں اوراس طرح حکومت سندھ نے 30 سرکاری جامعات کے لئے کل50 ارب روپے مختص کئے ہیں جو دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں زیاد ہ ہے۔ڈاکٹر طارق رفیع نے بتایا کہ جامعہ کراچی سندھ کی واحد یونیورسٹی ہے جوکیوایس رینکنگ میں شامل ہے،اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جامعہ کراچی میںریسرچ کلچر اور اساتذہ کا ریسرچ کی طرف رجحان کتنا زیادہ ہے کیونکہ کیوایس رینکنگ میں شامل ہونا ایک مشکل کام ہے۔ڈاکٹر طارق رفیع نے کیوایس رینکنگ میں شامل ہونے پر جامعہ کراچی کے تمام اساتذہ اوربالخصوص شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی کی قائدانہ صلاحیتوں کا سراہا۔چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسرڈاکٹر محمد طارق رفیع نے کہا کہ جلسہ تقسیم ان تمام طلبہ کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہوتاہے جب ان کو اپنی تعلیمی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے اعتراف کے طورپر اس جامعہ سے ڈگری تفویض کی جاتی ہے لیکن اس کے بعد ایک عملی زندگی شروع ہوتی ہے جہاں پر آپ ایک تگ ودو، جدوجہد میں شامل ہوجاتے ہیں تاکہ آپ معاشرے میں ایک مقام بناسکے۔ قبل ازیں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جب آپ کو یہ اسناد دی جا رہی ہیں، تو یہ محض کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں، بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہیں کہ آپ نے علم کی راہ میں جدوجہد کی، وقت کی قدر کی، اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارا،یہ اسناد آپ کی کامیابی کا آغاز ہیں، نہ کہ انجام۔ اب آپ پر ذمہ داری ہے کہ آپ اس علم کو معاشرے کی فلاح، قوم کی ترقی، اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ دنیا بھر میں معاشی چیلنجزنے چھوٹے، بڑے، وسائل سے مالا مال اور وسائل کی کمی کے شکار ہر ملک کو، بالخصوص ان تمام ممالک کی نوجوان نسلوںکو اپنے معاشی و سماجی مستقبل سے متعلق فکر مندی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ایسے حالات میں جامعات کو جدید علم و تحقیق پر گہری نظر رکھتے ہوئے مناسب اقدامات کی مدد سے ہر چیلنج کا موثر طور پر سامنا کرکے نوجوان نسل سمیت پورے معاشرے کو مادّی سہولیات کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ڈاکٹر خالدعراقی نے مزید کہا کہ جامعہ کراچی اپنے طلبا و طالبات اور اساتذہ کی جدید طرز پر پیشہ ورانہ تربےّت کے مواقع حاصل کرتے ہوئے اپنے گریجویٹس کے لیے ذاتی کاروبار اور معقول ملازمتوں کے حصول کو ممکن بنانے کامضبوط ارادہ رکھتی ہے ۔کاروبار، تجارت، صنعت، صحت اور دیگر شعبہ جات میں اپنی خدمات سے جامعہ کے گریجویٹس نہ صرف اپنے ملک و قوم کے لیے کام کرسکیں گے بلکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق وہ گلوبلائزیشن کے عمل میں بھی مؤثر طور پر اپنے ملک کی نمائندگی کے مواقع حاصل کریں گے۔




