سکھر میں لنڈا بازاروں سے ٹریفک متأثر، راہگیروں، خصوصاً خواتین کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا

شیئر کریں

سکھر: شہر کی فٹ پاتھوں پر قبضہ مافیا کا راج ، فٹ پاتھوں پر غیر قانونی لنڈا بازار قائم ، پیدل چلنے والے شہریوں بلخصوص خواتین کو پریشانی کا سامنا، ٹریفک کی روانی شدید متاثر ، شہری و سماجی حلقوں کی جانب سے بلدیہ ، پولیس و سکھر انتظامیہ سمیت منتخب عوامی نمائندگان کی کارکردگی پر سخت تنقید ، بالا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ ، تفصیلات کے مطابق بلدیہ اعلیٰ سکھر ، سکھر انتظامیہ سمیت ٹریفک پولیس و دیگر متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت و رشوت وصولی کے بعد سکھر شہر کے اہم تجارتی مراکز اور مصروف بازاروں پر قبضہ مافیا کا راج قائم ہوچکا ہے جبکہ متعلقہ انتظامیہ خوابِ غفلت میں مبتلا نظر آرہی ہے،

شہر کے مصروف ترین علاقوں مینارہ روڈ ، اسٹیڈیم روڈ ، انور پراچہ روڈ ، ڈولفن بیکرز روڈ سمیت دیگر مقاما ت کے فٹ پاتھوں پرقبضہ مافیا نے قبضہ کر کے غیر قانونی لنڈا بازار کے اسٹال ، ٹھیلے ، ریڑھیاں کھڑی کرا دی ہے اور ان سے یومیہ کی بنیاد پر رشوت وصول کی جارہی ہے جبکہ قبضہ مافیا کے کارندے باقاعدہ طور پر غیر قانونی لنڈا بازار کے اسٹال ، ٹھیلے ، ریڑھیوں سے چندہ وصول کر کے بلدیہ کے افسران ، انٹی انکروچمنٹ فورس کے عملے ، ٹریفک و ڈسٹرکٹ پولیس کے اہلکاروں سمیت چند نام نہاد تاجر رہنماﺅں کو بھی ان کا حصہ پہنچا رہے ہیں،

جس کی وجہ سے مختلف بازاروں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں، جہاں کسی کو روکنے کی اجازت نہیں دی جاتی،شہریوں کے مطابق اگر کوئی فرد ان غیر قانونی قبضوں کے خلاف آواز اٹھانے یا سمجھانے کی کوشش کرے تو قبضہ مافیا کے افراد دھمکیاں دیتے ہیں، جس سے پورا شہر ان کے رحم و کرم پر ہے دوسری جانب انتظامیہ اور بلدیہ سکھر کے عملے کی پرسرار خاموشی کی وجہ سے نیم کی چاڑی ، گھنٹہ گھر چوک، مینارو روڈ، شہید گنج، شاہی بازار، صرافہ بازار، لیاقت بازار، سری چوک سمیت مختلف بازاروں میں دکانداروں نے اپنی دکانیں اس قدر بڑھا لی ہیں کہ فٹ پاتھوں پر بھی کاروبار جاری ہے،

شہری و سماجی حلقوں نے کمشنر سکھر اور ڈپٹی کمشنر سکھر، مئیر سکھر و دیگر بالا حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شہر کی تمام مارکیٹوں، سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے قبضے ختم کرانے کے لیے مستقل بنیادوں پر گرینڈ آپریشن شروع کیا جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نا کرنا پڑے۔

رپورٹ رضوان لودھی


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے