لاڑکانہ: لاڑکانہ میں سال 2021 میں آئی بی اے کے تحت پی ایس ٹی اور جے ای ایس ٹی کی آسامیوں کے لیے ٹیسٹ دینے والے امیدواروں نے آفر آرڈر نہ ملنے کے خلاف پريس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور شدید نعرے بازی بھی کی۔احتجاج میں شامل امیدوار صدام سانڈھانو، سجاد چانڈیو، عبدالغفار مغیری، فرید عباسی، مریم عباسی اور دیگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 2021 میں آئی بی اے کے ذریعے ٹیسٹ دیا تھا اور 40 سے 50 نمبرز لے کر میرٹ پر پاس ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود ہمیں آفر آرڈر جاری نہیں کیے گئے اور زبردستی ویٹنگ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کے حلقوں میں 33 سے بھی کم نمبرز لینے والے ناکام امیدواروں کو نوکریاں دی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں دہرا معیار چل رہا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ ایس این ای اور ایس ٹی آر پالیسی کے مطابق اس وقت ضلع لاڑکانہ میں 1600 سے زائد اسامیاں خالی ہیں، جبکہ 2021 سے اب تک کئی اساتذہ ریٹائر بھی ہو چکے ہیں، جس سے خالی آسامیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان خالی نشستوں پر ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کا حق بنتا ہے، لیکن ہمیں نظرانداز کرکے ویٹنگ لسٹ کی مدت ختم ہونے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لیا جائے، پالیسی میں ترمیم کی جائے اور تحصیل کے بجائے ڈویژن یا صوبائی سطح پر آفر آرڈر جاری کرکے ویٹنگ امیدواروں کو روزگار فراہم کیا جائے۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی سے قبل 22 اور 23 دسمبر کو لاڑکانہ میں 48 گھنٹے کی بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا جائے گا اور 25 دسمبر کو لاڑکانہ پریس کلب سے شہداء کے مزار، گڑھی خدا بخش بھٹو تک پیدل مارچ کیا جائے گا۔

رپورٹ نادر مائری


