لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی سیکریٹری اور رکن صوبائی اسمبلی جمیل احمد سومرو نے لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 30 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کا اٹھاونواں یومِ تاسیس منایا جائے گا، جس سلسلے میں ملک بھر سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ ان تقریبات سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بیک وقت ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ لاڑکانہ میں یومِ تاسیس کی مرکزی تقریب شہید محترمہ بینظیر بھٹو میونسپل اسٹیڈیم میں ہوگی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پارٹی رہنما، کارکن اور شہری بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ تقریب کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے قیام کو اٹھاون برس مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ جماعت نے مجموعی طور پر صرف پندرہ برس حکومت کی ہے۔ ان برسوں میں شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ملک کی ترقی، خوشحالی، استحکام اور عوامی حقوق کے لئے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں ہر دس برس بعد بھٹو خاندان کا ایک فرد شہید ہوا، لیکن جدوجہد کا سلسلہ نہیں رکا۔ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے آئین، پارلیمان اور عوامی حقوق کے لئے کوڑے، پھانسیاں، قید و بند کی صعوبتیں اور ظلم برداشت کی مگر کبھی اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔ جمیل احمد سومرو نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس وقت قوم پرست، مذہبی اور سیاسی جماعتیں موجود تھیں، لیکن قائد عوام نے پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط وفاقی جمہوری جماعت کی حیثیت سے منوایا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی مخالفت سیاسی مفاد کے لئے کی جارہی ہے۔ کئی وکلاء اور مختلف جماعتوں کے رہنما ترامیم کے بارے میں غلط تاثر دے کر نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ ان ترامیم میں سندھ کی تقسیم یا این ایف سی ایوارڈ میں کمی کی کوئی بات شامل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت کے جج بھی آئینی عدالت کے قیام کی بات کر چکے تھے، جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی آئینی عدالتوں کے حق میں تھے۔ ریاستی ادارے اور عدالتیں آئین کی پابند ہوتی ہیں اور کسی جج کو آئینی ترمیم ختم کرنے کا اختیار نہیں۔ سابق آمر پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی سپریم کورٹ نے ہی دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہ کوئی جج اور نہ کوئی عدالت پارلیمان کے اختیارات ختم کرسکتی ہے، مگر ماضی میں ایسے فیصلے بھی ہوئے کہ چیف جسٹس نے ڈیم فنڈ اور ٹماٹر کی قیمت تک متعین کی۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے والے بینچ میں چار جج ایک صوبے اور تین جج دیگر صوبوں کے تھے، جبکہ نئی آئینی عدالتوں میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی رکھی گئی ہے، جیسے سینیٹ میں صوبوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت بھی سندھ کے جج موجود ہیں۔
جمیل احمد سومرو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی محکمے وفاق کے اختیار میں دینے کی ہمیشہ مخالفت کرتی آئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ صرف 2010 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جاری ہوا تھا، اس کے بعد نہ مسلم لیگ ن اور نہ تحریک انصاف کی حکومت کوئی نیا ایوارڈ جاری کرسکی۔


