لاڑکانہ: لاڑکانہ پریس کلب کی جانب سے سینئر صحافی سید جاوید شاہ کے ساتھ رہان اور اعزاز کے لیے ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں پریس کلب کے صدر نوید لاڑک، نائب صدر مرتضیٰ کلہوڑو، جنرل سکریٹری عبدالقادر جاگیرانی، جوائنٹ سکریٹری سلامت ابڑو، خزانچی منصور عباس ابڑو سمیت ممتاز صحافی محمد عاشق پٹھان، ڈاکٹر بدر شیخ، سید صابر شاہ، حنیف سہاگ، منور رند، نادر ابڑو، عبدالحفیظ منگی، محمود پٹھان، خان راجا مگسی، نادر مائری، زین پٹھان، ندیم سومرو، علی گراماڻي، راجا خان گاڈھی، وحید لانگاہ، نصیر محمد کھاوڑ، ذیشان کھوکھر، علی گل ڈیتھو، نوید سومرو، مدثر لاشاری اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں سینئر صحافی سید جاوید شاہ کو سندھی ثقافت کی شناخت اجرک، ٹوپی، پھولوں کا تحفہ اور اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نوید لاڑک اور دیگر مقررین نے کہا کہ سید جاوید شاہ لاڑکانہ کے انتہائی سینئر اور باوقار صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے صحافت کی ابتدا نویں جماعت سے کی۔ دورانِ تعلیم وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے اور کلاس کے نائب نگران بھی رہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ ابتدا ہی سے فعال اور سنجیدہ کردار کے حامل تھے۔
مقررین نے کہا کہ سید جاوید شاہ نے اپنی پوری زندگی صحافت اور قلم کے ذریعے پسے ہوئے اور مظلوم طبقات کے مسائل ایوانوں تک پہنچائے۔ وہ کئی اخبارات میں نمائندہ اور مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ متعدد معروف ٹیلی وژن چینلوں میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ پریس کلب کے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے انہوں نے صحافیوں کے مسائل حل کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سید جاوید شاہ نے سماجی خدمات میں بھی نمایاں کام کیا۔ عورت فاؤنڈیشن اور بچوں کے تحفظ کے اداروں میں انہوں نے بھرپور فعالیت دکھائی۔ برطانیہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے انہیں ’’پاکستان تبدیلی ساز‘‘ کا خطاب دیا۔ ایشیا فاؤنڈیشن نے اپنی مطبوعہ دستاویزات میں انہیں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی شخصیت قرار دیا۔ وفاقی وزارتِ انسانی حقوق نے جدوجہد پر انہیں اعزاز سے نوازا۔ انسائیکلوپیڈیا ’’سندھیانا‘‘ میں ان کا تعارف سنہری حروف میں درج ہے۔ اسلام آباد کے ادارے انٹرمیڈیا نے اپنی فہرست میں ان کا نام ملک کے خطرات کے ماحول میں کام کرنے والے صحافیوں میں شامل کیا۔مقررین نے مزید بتایا کہ سید جاوید شاہ کو سندھ اور بلوچستان میں صحافیوں کی تربیت کے لیے مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے چار سو پچاس سے زائد صحافیوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور اپنی شخصیت کے مختلف پہلوؤں میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا، جسے سراہا جاتا رہے گا۔ رہان کے اختتام پر سید جاوید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوستوں کی جانب سے عزت افزائی ان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی ایک خاندان کی مانند ہیں اور ان کے درمیان بھائی چارہ اور رفاقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ نئے شامل ہونے والے اراکین کو مبارک باد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں پریس کلب کی رکنیت حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کے دوران انہیں سخت مشکلات، جان سے مارنے کی دھمکیاں، خطوط کے ذریعے خوف دلانے کی کوششیں، اور گھر میں سانپ چھوڑنے جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔

رپورٹ نادر مائری


