سکھر: خزانہ آفس سکھر میں کرپشن، کمیشن اور رشوت ستانی کے انکشافات عوام کے جائز کام رک گئے، سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین دربدر، کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آ گئیں سکھر کے خزانہ آفس میں کرپشن، کمیشن اور رشوت خوری کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ شہریوں، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور مختلف محکموں کے اہلکاروں کے مطابق، خزانہ آفس میں معمولی کام بھی رشوت دیے بغیر ممکن نہیں، جبکہ آڈیٹرز اور عملے کی ملی بھگت سے پینشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات کے کیسز تاخیر اور رُکاوٹوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آڈیٹرز کی جانب سے ہر قسم کے بل پر الگ الگ کمیشن مقرر کیا گیا ہے — تنخواہوں کے بل پر 30 فیصد، ری اسٹوریشن پر 25 فیصد، آدھر بجٹ بل پر 10 فیصد، گریجویٹی پر 5 فیصد، جبکہ ٹھیکیداروں کے کروڑوں روپے کے بل پر 5 فیصد رشوت لینے کا انکشاف ہوا ہے۔مزید بتایا گیا کہ 400 سے زائد کمیوٹیشن اور گریجویٹی کیسز تا حال زیرِ التواء ہیں، اور سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین جائز کام نہ ہونے کے باعث مہینوں سے خزانہ آفس کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے کئی افراد بیماری یا بڑھاپے کے باعث ناتوانی کی حالت میں اپنے واجبات کے منتظر ہیں، جبکہ بعض ریٹائرڈ ملازمین اپنی پینشن یا کمیوٹیشن کی رقم حاصل کیے بغیر فوت ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق، خزانہ آفس میں دو سو سے زائد فوت شدہ ملازمین کی گریجویٹی رقم بھی تاحال جاری نہیں کی گئی، جبکہ چار سو سے زائد جعلی آئی ڈیز کے ذریعے پینشن وصول کرنے کے کیسز کا مبینہ انکشاف ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پینشن لینے والوں میں بعض ایسے افراد شامل ہیں جن کا کسی سرکاری ادارے سے تعلق ہی نہیں، خاص طور پر آبپاشی محکمہ (Irrigation Department) کے کیسز اس میں زیادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق، خزانہ آفس کے بعض چھوٹے ملازمین، آڈیٹرز اور ایجنٹس ہر بل پر کھلے عام رشوت کا تقاضا کرتے ہیں، جبکہ ان کے درمیان رقم کی تقسیم پر اندرونی اختلافات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ آفس میں خانگی (پرائیویٹ) افراد کو بھی حساس ریکارڈ کے کاموں پر غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا ہے، جن میں شاہ محمد، نبيل، قمر جتوئی سمیت آٹھ سے زائد افراد شامل ہیں۔ ان کی مداخلت کے باعث ایک اہم لیجر (Ledger) گم ہو گیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا ریکارڈ موجود تھا۔ یہ لیجر تاحال برآمد نہیں ہو سکا۔دوسری جانب، ڈسٹرکٹ آفیسر سکھر حضور بخش میمن نے اس گمشدگی کا الزام اپنے ہی ڈرائیور پر عائد کیا، تاہم لیجر ابھی تک بازیاب نہیں ہوا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ خزانہ آفس میں ای جی سندھ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے پسندیدہ آڈیٹرز کو بااثر عہدوں پر بٹھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، خزانہ آفس کے بعض مرد و خواتین ملازمین بیرون ملک (ویزا پر) مقیم ہیں، مگر ان کے نام پر اب بھی محکماتی کھاتے چلائے جا رہے ہیں، اور رشوت کی رقم انہیں گھر بیٹھے پہنچا دی جاتی ہے۔تاہم، اس سلسلے میں اکاؤنٹس آفیسر خزانہ آفس سکھر حضور بخش میمن نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ تمام باتیں بے بنیاد اور غلط ہیں، خزانہ آفس میں کام مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے ای جی سندھ، اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خزانہ آفس سکھر میں ہونے والی مبینہ کرپشن اور رشوت ستانی کے معاملات کی شفاف تحقیقات کرائیں، تاکہ عوام اور ریٹائرڈ ملازمین کو انصاف اور ان کے واجبات فراہم کیے جا سکیں۔
رپورٹ رضوان لودھی


