نیٹ میٹرنگ کے 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے سے نیشنل گرڈ متاثر ہوسکتی ہے، پاور ڈویژن کا انتباہ

شیئر کریں

اسلام آباد: ملک میں نیٹ میٹرنگ کے تحت بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، تاہم اس تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداوار نے سسٹم کے استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری پاور نے بتایا کہ ملک میں سولر انرجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی کی پیداوار ایک نئے انقلاب کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی بجلی کا حجم اب 6 ہزار میگاواٹ تک جا پہنچا ہے جب کہ آف گرڈ سولر کی صلاحیت بھی 12 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا تخمینہ جدید سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے لگایا گیا ہے۔

سیکرٹری پاور نے خبردار کیا کہ نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے قومی گرڈ کے استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرڈ سسٹم سے پیدا ہونے والی بجلی اور نیٹ میٹرنگ سے حاصل شدہ توانائی کا براہ راست موازنہ ممکن نہیں کیونکہ گرڈ کی بجلی میں 14 روپے کیپسٹی چارجز اور 9 روپے ٹیکسز شامل ہیں، جب کہ نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی بجلی لاگت کے لحاظ سے کہیں زیادہ سستی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو لوڈشیڈنگ سے مکمل طور پر نجات دلایا جائے اور توانائی کے تمام ذرائع کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ سسٹم پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے