چائلڈ پورنو گرافی میں ایک بچے کا والد کا بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے محمد شعیب نے کہا کہ اسکردو میں باپ اپنے ہی بچوں کی پورنوگرافی میں ملوث نکلا۔ ملزم رقم کیلئے بچوں کی نازیبا ویڈیو بناتا اور موبائل ایپ کے ذریعے بیچتا رہا۔
محمد شعیب نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی چیز پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ بچوں کی تصویریں بناتے بناتے ایک گروہ بن گیا اور مکروہ دھند شروع ہوگیا۔ جانوروں کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی کے مطابق مرکزی ملزم کا تعلق اسکردو سے تھا، ملتان، اسلام آباد اور جنوبی پنجاب میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بچی نے3 بارخود کشی کی کوشش کی، ہراسمنٹ کا کوئی بھی ملزم قانون سے بچ نہیں سکے گا۔




