اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کے جاں بحق اور ہزاروں کے لاپتا ہونے پر نیپال کے عوام سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
او آئی سی سی آئی کے مطابق نیپال میں ہونے والی تباہی پاکستان کے عوام کے لیے بھی ایک تکلیف دہ یاد دہانی ہے کیونکہ پاکستان بھی اچانک آنے والے سیلاب، زمینی رابطے منقطع ہونے اور گھروں اور روزگار سے محرومی جیسے حالات کا سامنا کر چکا ہے۔ نیپال کا سانحہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری ان کے وقوع پذیر ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے کی جانی چاہیے۔
او آئی سی سی آئی نے کہا کہ 2025 پاکستان میں گزشتہ 65 برس کے دوران دوسرا گرم ترین سال رہا جبکہ 2024 میں ملک نے ریکارڈ گرم ترین سال کا سامنا کیا۔ دوسری جانب بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز کے باعث پاکستان کی آبادی، انفرااسٹرکچر اور معیشت کو درپیش موسمیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نمایاں نقصان کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق مسعود ملک نے رواں سال کے آغاز میں او آئی سی سی آئی کی پاکستان کلائمیٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث ہر سال اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً ایک فیصد نقصان برداشت کرتا ہے۔
او آئی سی سی آئی نے مزید کہا کہ چند ہفتے قبل پاکستان کے حکام نے پیشگی خطرے سے آگاہ کرنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے تھے، کیونکہ ملک کو گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، اچانک طغیانی، شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ہیٹ ویوز جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، اس تناظر میں محض کسی ممکنہ آفت کے قریب آنے کی اطلاع دینے کے بجائے خطرات کے رونما ہونے سے پہلے ان کی پیش گوئی اور ان سے نمٹنے کی تیاری کی جانب منتقلی ایک اہم پیش رفت ہے۔
او آئی سی سی آئی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی مؤثر حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد عوام کا تحفظ ہےجسکے تحت بروقت انتباہ کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، سیلاب کے شدید اثرات سے آبادیوں کو محفوظ رکھنے اور روزگار کو مستقبل کے موسمیاتی بحرانوں سے محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔
کامرس اینڈ انڈسٹری نے نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کے جاں بحق اور ہزاروں کے لاپتا ہونے پر نیپال کے عوام سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔




