باقاعدگی سے ورزش کرنا دل کو صحت مند رکھنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جسمانی سرگرمیاں دل کے دونوں حصوں پر یکساں اثر نہیں ڈالتیں بلکہ ان کے نتیجے میں دل کو کنٹرول کرنے والے مخصوص خلیات کی ساخت میں نمایاں فرق پیدا ہوسکتا ہے۔
برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق، معتدل ایروبک ورزشیں دل کے ان پٹھوں سے متعلق خلیات میں تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں جو دل کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ محققین نے مشاہدہ کیا کہ ان تبدیلیوں کی نوعیت دل کے دائیں اور بائیں حصے میں خاصی مختلف ہوتی ہے۔
دل کی دھڑکن اور دیگر اہم جسمانی افعال کو قابو میں رکھنے میں خودکار اعصابی نظام بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ نظام جسم کو شعوری کوشش کے بغیر دل کی دھڑکن، سانس لینے اور ہاضمے جیسے ضروری افعال جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس نظام کی ایک شاخ جسم کو زیادہ آکسیجن درکار ہونے کی صورت میں دل کی دھڑکن تیز کرنے میں معاون ہوتی ہے، جبکہ مخصوص خلیات اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محققین نے اس تعلق کو سمجھنے کے لیے چوہوں پر تجربات کیے، جن کے دوران انہیں 10 ہفتوں تک ایروبک ورزشیں کرائی گئیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس عرصے میں ورزش کے باعث دل کے افعال میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں اور دل کو کنٹرول کرنے والے خلیات کی ساخت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔
تحقیق کا ایک اہم مشاہدہ یہ تھا کہ ورزش کے بعد دل کے دائیں حصے میں متعلقہ خلیات کی تعداد بائیں حصے کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ تھی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی سرگرمی دل کے دونوں حصوں میں الگ الگ نوعیت کی تبدیلیاں پیدا کرسکتی ہے اور ورزش کے اثرات کو صرف دل کی مجموعی مضبوطی تک محدود نہیں سمجھا جاسکتا۔
ماہرین کے مطابق ایروبک ورزشوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی، دوڑنا، تیراکی کرنا، سیڑھیاں چڑھنا اور سائیکل چلانا جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ایسی ورزشیں جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنے کے ساتھ دل اور دوران خون کے نظام کی صحت برقرار رکھنے میں بھی مددگار سمجھی جاتی ہیں۔
محققین اب ان نتائج کی مزید جانچ کے لیے انسانوں پر تحقیق کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ چوہوں پر سامنے آنے والی تبدیلیاں انسانی دل میں بھی اسی انداز سے رونما ہوتی ہیں یا نہیں۔ انسانی تحقیق مکمل ہونے کے بعد ہی ان نتائج کی طبی اہمیت کے بارے میں زیادہ واضح نتیجہ اخذ کیا جاسکے گا۔




