وطن عزیز میں سیاسی کھیل تماشے نہ ہوتے تو عوام کے دن کتنے بور گزرتے۔ ایک تو ان کے لئے تفریح کے مواقع مفقود ہیں، دوسرا غربت اتنی ہے کہ صبح سے لے کر رات گئے تک محنت مزدوری نہ کریں تو گزارا نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر سیاسی سطح پر رونق نہ لگی ہوتی تو ان بے چاروں کا کیا بنتا۔ جو کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں، دھن دولت ہے جن کے پاس، وہ تو شام کو مہنگے ریستورانوں میں چلے جاتے ہیں، دوچار ہفتوں بعد صحت افزاء مقام کی سیر کرکے دل بہلا لیتے ہیں مگر معاشرے کے یہ ماجھے ساجھے روٹی دال کے چکر میں سر کھپاتے ہیں، ایسے میں ان کے لئے واحد تفریح یہی ہوتی ہے کہ سیاسی قلابازیاں دیکھیں، رنگ برنگے بیانات سنیں، لڑائی جھگڑے کے مناظر سے لطف اندوز ہوں اگر یہ سب بھی نہ ہو تو یہ غریب غرباء آخر کیا کریں، کیسے گزارا کریں تو میرے نزدیک یہ غنیمت ہے کہ ہمارے سیاستدان، شغل میلہ لگائے رکھتے ہیں۔ عوام کو اور تو کچھ یہ دے نہیں سکتے البتہ سیاسی اسٹیج پر نت نئی جگتیں مار کر، ایک دوسرے پر جملے اُچھال کر اور الزامات و جوابی الزامات کی فلم چلا کر عوام کو محظوظ کرتے رہتے ہیں۔ آج کل ہمارے پیارے کیپٹن (ر) صفدر نے بھی ماحول کافی گرما رکھا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انہوں نے کھڑکی توڑ رش لینے والا ڈرامہ شروع کر دیا ہے۔ ان کی باتیں ایک طرف مولاجٹ کے ڈائیلاگ جیسا مزا دے رہی ہیں اور دوسری طرف وہ بڑے پیار سے طنز و تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ وکلاء کے لیڈر احسن بھون ان کا ہدف ہیں، جن سے وہ ڈگری دکھانے کا مطالبہ کررہے ہیں جواباً انہیں جو سننا پڑ رہا ہے اس سے وہ ذرا بھی متاثر نظر نہیں آتے۔ میرے خیال میں اس وقت اگر کوئی ریٹنگ کے حوالے سے ہٹ جا رہا ہے تو وہ کیپٹن (ر) صفدر ہیں۔ میڈیا والے دیوانہ وار ان کی طرف متوجہ ہیں اور میڈیا اسی وقت کسی کی طرف توجہ دیتا ہے جب عوام کی اس میں دلچسپی ہو۔ یہ سیاسی اور وکالتی ڈرامہ اس لئے بہت زیادہ دلچسپی اختیار کر گیا ہے کہ احسن بھون جو کام ایک منٹ میں کرکے کیپٹن (ر) صفدر کے غبارے سے ہوا نکال سکتے ہیں، وہ نہیں کر رہےّ وہ اپنی ڈگری منظر عام پر لا کر ایک منٹ میں بلے بلے کرا سکتے ہیں مگر نجانے وہ کیوں سامنے نہیں لا رہے البتہ انہو ں نے کیپٹن (ر) صفدر کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا نوٹس ضرور بھیج دیا ہے۔ کل جب میں شیدے ریڑھی والے کے پاس گیا تو وہ دو لوگوں سے اسی موضوع پر بات کررہا تھا، وہ اس بات پر بہت خوش تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر نے احسن بھون کو ڈگری دکھانے پر امام بری کے لنگر سے کھانا کھلانے اور انہیں سینے سے لگانے کی پیشکش کی ہے۔ ایک آدمی جو غالباً شیدے ریڑھی والے کا پرانا جاننے والا تھا، یہ سوال کئے جا رہا تھا احسن بھون اتنے بڑے وکیل ہیں آخر ڈگری دکھا کر کیپٹن (ر) صفدر کا منہ بند کیوں نہیں کر دیتے۔ میں وہاں کھڑا سوچ رہا تھا، ان لوگوں کے پاس اگر ایسی تفریحی خبریں نہ ہوتیں تو یہ مہنگائی، پٹرول کی قیمت کے بڑھنے اور بجلی کے بلوں کی پریشانی سے کیسے نکلتے، یہ تماشے ہی ہیں، جو انہیں پریشانیوں سے نجات دلاتے ہیں۔
اُدھر لانگ مارچ والا تماشا بھی عوام کی تفریح کا باعث بنا ہوا ہے۔ لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ یہ سوال بھی بڑی شطرنج کی گیم یا تاش کی بازی بنا ہوا ہے۔ جیسے نہلے پہ دہلا مارا جاتا ہے، اسی طرح وفاقی وزراء بیان دیتے ہیں آج کیوں نہیں، آؤ ناں ذرا خوشبو لگا کے، دوسری طرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پریس کانفرنس کرکے جواب آں غزل پیش کرتے ہیں، آئیں گے آئیں گے، ضرور آئیں گے، ذرا صبر کرو، کنٹینرز لگائے رکھو، تفریح کو ترسے ہوئے عوام اس زبانی گولہ باری کا مزا لیتے ہیں اور ان کا دن اچھا گزر جاتا ہے۔ اب جوں جوں چار اکتوبر کی تاریخ قریب آ رہی ہے، عوام کی دھڑکنیں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں، اسلام آباد والے دعائیں مانگ رہے ہیں، جو ہونا ہے ہو جائے، یہ کنٹینروں کے شہر میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اب صورتِ حال ایسی تو ہے نہیں کہ جو پنجابی کے گانے ’ماہی آوے گا تے پھلاں نال دھرتی سجاواں گی‘ کے مصداق ہو۔ اسلام آباد کی پولیس تو کچھ اور ہی قسم کی تیاریاں کئے بیٹھی ہے۔ ویسے تو اس کھیل تماشے کا بھی بہت چرچا ہے جو آزادکشمیر کے دارالحکومت میں رونما ہوا جس میں آزادکشمیر کے آئی جی ملک لیاقت علی نے سوال پوچھنے پر ایک رپورٹر سے اس کا مائیک چھیننے کی کوشش کی۔ میں نے تو یہ نظارہ پہلی بار دیکھا کیونکہ ایسا تو ایس ایچ او بھی نہیں کرتا، جیسا آئی جی نے کر دکھایا۔ سوال کا جواب نہ دینا ہو تو احسن طریقہ یہی ہوتا ہے نوکمنٹ کہہ دیا جائے۔ آپ غلط جواب بھی دیں اور جب جوابی سوال آئے تو بُرا بھی منا جائیں، یہ تو غلط بات ہے، جو آئی جی سے سرزد ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔ عوام کو اسے دیکھ کر ببوبرال کے ڈراموں جیسا مزا آئے گا۔ ان کے چار دن اچھے گزر جائیں گے اور پھر کوئی نیا تماشا ان کی تفریح طبع کا باعث بن جائے گا۔
میرا برسہا برس کا تجربہ ہے کہ ایسے کھیل تماشے حکومت وقت کے لئے غیبی امداد ثابت ہوتے ہیں۔ عوام کی توجہ ان کی طرف سے ہٹ جاتی ہے۔ خاص طور پر مہنگائی نے جس طرح عوام کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے، اس کی طرف عوام کا دھیان تھوڑا کم ہوجاتا ہے۔ یہ تکنیک اس دورِ حکومت میں بہت استعمال کی گئی ہے۔ مثلاً پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے لڑائی کے منصوعی میدان سجا کر عوام کو خوب بے وقوف بنایا۔ بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے وزراء کافی ماحول گرماتے رہے، آزادکشمیر کے انتخابات گزر گئے تو دونوں ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے اور اب تک بیٹھے ہوئے ہیں۔ بوقت ضرور پھر تماشا لگائیں گے اور عوام کو بے وقوف بنانے کی فلم چلائیں گے۔ یہ پرانی تکنیک ہے۔ اسے پولیس والے بھی استعمال کرتے ہیں جب کوئی بڑی واردات ہو جاتی ہے تو توجہ ہٹانے کے لئے کسی دوسری بڑی واردات کو ہونے سے پہلے پکڑنے کا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں، یہ تکنیک تو بہت آزمودہ ہے کہ واردات کے فوراً بعد یہ بیان جاری کر دیا جائے۔ دس بارہ مشکوک افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تو صاحبو! یہ تماشہ گروں کی بستی ہے اور عوام کو بھی تماشے دیکھنے کی عادت ہو چکی ہے، اس لئے کام چل رہا ہے، چلتا رہے گا۔
بشکریہ: روزنامہ پاکستان




