بچی کی حوالگی کا تنازعہ، کوڑو چانڈیو، قمبر کے محنت کش کیخلاف کراچی میں مبینہ جھوٹا مقدمہ

شیئر کریں

لاڑکانہ: لاڑکانہ میں تحصیل قمبر کے گاؤں کوڑو چانڈیو کے رہائشی محنت کش غلام نبی چانڈیو نے اپنی معصوم بیٹی کائنات کے ہمراہ لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے سہراب گوٹھ کے رہائشی ان کے پھوپھی زاد بھائی خورشید چانڈیو نے سات سال قبل اپنی اہلیہ سیما خاتون سے طلاق کے بعد اپنی ڈیڑھ ماہ کی معصوم بیٹی کائنات دو گواہوں کی موجودگی میں انہیں دے دی تھی، جس کے بعد انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے کائنات کو اپنی اولاد کی طرح پالا اور اسے گاؤں کے پرائمری اسکول میں داخل کرایا، جہاں وہ پہلی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔

غلام نبی چانڈیو نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے خورشید چانڈیو اپنے چچا مشتاق چانڈیو کے ہمراہ بیٹی کی واپسی کے لیے انہیں مختلف طریقوں سے تنگ اور ہراساں کر رہا ہے جبکہ انہیں مبینہ طور پر مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل سہراب گوٹھ تھانے کراچی میں ان کے خلاف بیٹی کے اغوا کا مبینہ جھوٹا مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے، جس کی آڑ میں پولیس انہیں پریشان کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کائنات ان کے بغیر نہیں رہ سکتی اور وہ خورشید چانڈیو کے پاس جانے کے لیے بھی تیار نہیں، اس لیے انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا نوٹس لے کر مبینہ طور پر ہراساں اور دھمکیاں دینے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، ان کے خلاف درج مقدمے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں تحفظ فراہم کرتے ہوئے انصاف کیا جائے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے