دنیا کے حالات دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف کسی نہ کسی نے ماچس کی ڈبیا اٹھا رکھی ہے کہیں میزائل چل رہے ہیں، کہیں ڈرون اڑ رہے ہیں، کہیں تیل کے جہاز راستہ بدل رہے ہیں، کہیں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہی ہیں ہر ملک اپنی طاقت دکھانے میں مصروف ہے اور عام آدمی خاموشی سے سوچ رہا ہے کہ بھائی، اس سارے جھگڑے میں میرا قصور کیا ہے؟
پاکستانی کا مسئلہ تو اور بھی سادہ ہے اسے نہ کسی سمندر پر قبضہ کرنا ہے، نہ کسی ملک کی حکومت بدلنی ہے، نہ دنیا کی قیادت سنبھالنی ہے۔ اسے صبح دفتر پہنچنا ہے، بچوں کی فیس دینی ہے، بجلی کا بل جمع کرانا ہے، موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانا ہے اور رات کو گھر آتے ہوئے سبزی بھی خریدنی ہے لیکن دنیا کا ہر بڑا جھگڑا آخرکار اس کے دروازے پر دستک دے دیتا ہے کبھی پٹرول کی قیمت بن کر، کبھی مہنگی بجلی بن کر، کبھی ڈالر بن کر اور کبھی آٹے، دال اور دوائی کی قیمت بن کر۔
اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا میں کون جیت رہا ہے اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے لوگوں کو کیسے بچائے؟ سب سے پہلے ہمیں یہ پرانی عادت چھوڑنی ہوگی کہ مصیبت دروازے پر پہنچے تو اجلاس بلاؤ۔ گھر چلانے والی ایک عام عورت بھی حکومت سے زیادہ منصوبہ بندی کرتی ہے۔ اسے معلوم ہو کہ اگلے مہینے آمدنی کم ہونے والی ہے تو وہ آج سے خرچ سنبھالنا شروع کردیتی ہے شادی آگے ہو تو پیسے پہلے جمع کرتی ہے گندم سستی مل رہی ہو تو کچھ زیادہ رکھ لیتی ہے۔
ملک بھی آخر ایک بڑا گھر ہی ہوتا ہے دنیا میں تیل کی رسد خطرے میں ہو تو ہمیں اس وقت سوچنا چاہیے جب پٹرول پمپوں پر قطاریں نہیں لگی ہوتیں متبادل راستے، اضافی ذخائر اور دوست ملکوں سے پیشگی انتظام اسی وقت کام آتے ہیں جب مشکل آنے سے پہلے کیے جائیں دوسری بات یہ کہ ہر بحران کا بل عوام کو پکڑا دینا آسان ترین حل ہے تیل مہنگا ہوا، قیمت بڑھا دو، ڈالر مہنگا ہوا، قیمت بڑھا دو۔بجلی کا خرچ بڑھا، بل بڑھا دو۔ یوں تو محلے کی دکان بھی چل سکتی ہے، ملک نہیں۔
حکومت کا اصل امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ باہر سے آنے والے جھٹکے کا کتنا حصہ وہ اپنی بہتر حکمتِ عملی سے برداشت کرتی ہے اور کتنا عوام تک پہنچنے دیتی ہے اور اگر قربانی ضروری ہو تو پھر قربانی بھی سب کی ہونی چاہیے یہ عجیب حساب ہے کہ مشکل وقت آئے تو موٹر سائیکل والے سے کہا جائے پٹرول بچاؤ ، پنکھا چلانے والے سے کہا جائے بجلی بچاؤ ، دال خریدنے والے سے کہا جائے صبر کرو لیکن سرکاری شان و شوکت ویسی ہی رہے۔
قومی قربانی کا مطلب یہ نہیں کہ غریب اپنی روٹی آدھی کردے قومی قربانی کا مطلب ہے کہ سب سے پہلے ریاست اپنا خرچ دیکھے تیسری ضرورت سفارت کاری ہے پاکستان کی سب سے بڑی طاقت میزائل نہیں، اس کی جغرافیائی حیثیت اور اس کے تعلقات ہیں ہمارے تعلقات عرب دنیا سے بھی ہیں ، ایران سے بھی، چین سے بھی ، امریکہ اور مغرب سے بھی۔
ایسے وقت میں سمجھ دار ملک جنگ میں فریق بننے سے پہلے سو مرتبہ سوچتا ہے، لیکن امن میں فریق بننے کا موقع کبھی نہیں چھوڑتا ہمیں کسی کے مورچے میں کھڑے ہونے سے زیادہ میز کے درمیان بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جنگ میں بہادری صرف گولی چلانے کا نام نہیں کبھی کبھی سب سے بڑی بہادری گولی رکوانا ہوتی ہے چوتھی اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی توانائی کی غلامی کم کرنا ہوگی ہم کب تک دنیا کے کسی سمندر میں کشتی رکنے پر اپنے پٹرول پمپ کی قیمت بدلتے رہیں گے؟
ہمارے پاس سورج ہے، ہوا ہے، پانی ہے، کوئلہ ہے، زراعت ہے اور کروڑوں ذہین نوجوان ہیں۔ لیکن ہم نے برسوں سے اپنی توانائی کی تقدیر دوسروں کے تیل کے کنوؤں سے باندھ رکھی ہے گھر میں سورج مفت چمک رہا ہو اور ہم روشنی کے لیے ادھار کا تیل خریدتے رہیں تو غلطی سورج کی نہیں ہوتی اور آخر میں ایک بات عوام سے بھی۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ملک صرف حکومت چلاتی ہے ایسا نہیں ملک دکاندار بھی چلاتا ہے، استاد بھی، مزدور بھی، صنعت کار بھی، صحافی بھی اور وہ شہری بھی جو مشکل وقت میں ناجائز منافع کمانے کے بجائے دوسرے شہری کا خیال رکھتا ہے بحران میں ذخیرہ اندوزی بھی ملک دشمنی کی ایک شکل ہے مصیبت میں قیمت دوگنی کردینا کاروباری ذہانت نہیں، بے حسی ہے۔
پاکستان پہلے بھی مشکل وقت دیکھ چکا ہے ہم نے جنگیں دیکھی ہیں، پابندیاں دیکھی ہیں، زلزلے دیکھے ہیں، سیلاب دیکھے ہیں، دہشت گردی دیکھی ہے اور معاشی بحران بھی۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں ہماری بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم اکثر بحران آنے کے بعد عقل مند ہوتے ہیں اس مرتبہ دنیا ہمیں پہلے سے خبردار کر رہی ہے دور کہیں دھواں اٹھ رہا ہے سمندر بے چین ہیں تیل کے راستے غیر یقینی ہیں بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔
اب فیصلہ ہمارا ہے ہم ہمیشہ کی طرح آگ اپنے صحن تک پہنچنے کا انتظار کریں گے، یا آج ہی پانی کی بالٹی بھر کر رکھیں گے؟ قومیں صرف جنگ جیت کر بڑی نہیں ہوتیں کبھی کبھی سب سے کامیاب قوم وہ ہوتی ہے جو دوسروں کی جنگ سے اپنے لوگوں کو بچا لے۔
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت

