سکھر: بیٹے کی مبینہ بلاجواز گرفتاری کے خلاف میرانی برادری کا احتجاج، پولیس پر چادر و چار دیواری کی پامالی اور رشوت طلب کرنے کا الزام
سکھر: صالح پٹ آر ڈی 186 کے رہائشی میرانی برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے بیٹے حمید میرانی کی مبینہ بلاجواز گرفتاری اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اعلیٰ حکام سے انصاف و تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر اربیلو میرانی، مسمات مراداں، مسمات عمراں اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عظیم شیخ اور اربیلو میرانی سمیت حمید ولد اربیلو میرانی ایک ساتھ مزدوری کرتے تھے، جبکہ عظیم شیخ نے اربیلو میرانی سے کچھ رقم ادھار لی ہوئی تھی۔
ان کے مطابق جب اربیلو میرانی نے اپنی رقم واپس مانگی تو عظیم شیخ نے مبینہ طور پر ان کے بیٹے حمید میرانی کے خلاف لڑکی سے زیادتی کا الزام عائد کرتے ہوئے متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد متعلقہ پولیس نے مبینہ طور پر ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے خواتین سے بدسلوکی اور تشدد کیا، جبکہ حمید میرانی کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حمید میرانی پر عائد زیادتی کے الزام کے حوالے سے اس کا میڈیکل بھی کروایا گیا، تاہم ان کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔اربیلو میرانی اور دیگر مظاہرین نے مزید الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود متعلقہ تھانے کی پولیس ان کے بیٹے کی رہائی کے عوض مبینہ طور پر رشوت طلب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کا بیٹا بے قصور ہیں اور انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر سخت اذیت اور پریشانی سے دوچار کیا جا رہا ہے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر حمید میرانی کو شفاف تحقیقات کے بعد انصاف فراہم کیا جائے، مبینہ طور پر جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے عظیم شیخ اور مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ میرانی خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔


