سکھر: ایف بی آر کی جانب سے کاروباری طبقے کے خلاف جاری ہراساں کن کارروائیوں کی شدید مذمت سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری موجودہ معاشی حالات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے POS نظام کے نام پر ملک بھر میں دکانداروں، تاجروں اور صنعتکاروں کے خلاف جاری چھاپوں، ہراساں کرنے کے اقدامات اور بھاری جرمانوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
ملک پہلے ہی شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے کاروبار کرنا انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی معاشی حالات بھی کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے بجائے ایف بی آر کی سخت کارروائیاں اور لاکھوں روپے کے جرمانے تاجروں اور صنعتکاروں کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ چھوٹے دکاندار کے لیے دکان کا کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے، جبکہ صنعتکار پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث اپنی صنعتیں چلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف ریونیو اہداف پورے کرنے کی خاطر کاروباری طبقے پر دباؤ ڈالنا ملکی معیشت کے مفاد میں ہرگز نہیں۔سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر خزانہ سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایف بی آر کی ہراساں کن کارروائیوں، بلاجواز چھاپوں اور غیر متناسب جرمانوں کا نوٹس لیں، POS نظام پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر نظرثانی کریں اور کاروباری طبقے کو اعتماد میں لے کر ایسا قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کریں جس سے کاروبار بھی چلے اور حکومتی محصولات بھی بہتر انداز میں حاصل ہوں۔کاروباری طبقہ ہی ملکی معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے اور قومی خزانے میں سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے۔ اگر تاجروں اور صنعتکاروں کو خوف، جرمانوں اور مسلسل ہراسانی کے ماحول میں دھکیلا گیا تو اس کے سنگین اثرات نہ صرف کاروبار بلکہ پوری قومی معیشت پر مرتب ہوں گے۔سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مطالبہ کرتا ہے کہ کاروباری برادری کو دیوار سے لگانے کے بجائے اس کے ساتھ مشاورت، اعتماد اور تعاون کی پالیسی اختیار کی جائے۔ بصورت دیگر، کاروباری برادری اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔


