ایران جنگ کے باعث اتحاد کو درپیش چیلنجز، بھارت میں برکس سربراہ اجلاس

شیئر کریں

بھارت رواں ہفتے برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا اور گروپ کی عالمی حیثیت کو مزید اجاگر کرنے کی کوشش کرے گا، تاہم امریکا کی قیادت میں ایران کے خلاف جاری جنگ نے گروپ کے ارکان کو تقسیم کر دیا ہے، جبکہ تہران اور ابوظہبی اس تنازع میں ایک دوسرے کے مخالف فریقوں میں شامل ہیں۔

نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والا سربراہ اجلاس ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے چھ ماہ سے زائد عرصے بعد منعقد ہو رہا ہے۔ ایران 2024ء سے برکس کا رکن ہے۔ اس تنازع کے باعث دنیا کی تیل کی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز تقریباً بند ہوچکی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

برکس کے رکن متحدہ عرب امارات نے جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی میزائل حملوں کی زد میں آنے کے باعث اگست میں ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی لین دین معطل کردیا تھا۔

خارجہ پالیسی کے ماہرین کے مطابق گروپ کے لیے بنیادی آزمائش یہ ہوگی کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر ایسی زبان اختیار کی جائے جسے ابوظہبی اور تہران دونوں قبول کر سکیں، تاکہ مشترکہ اعلامیے کی راہ ہموار ہو سکے۔

ان کے مطابق ایسا مشترکہ اعلامیہ موجودہ جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہونے کا امکان تو کم ہے، تاہم اس سے یہ ضرور ظاہر ہوگا کہ ابھرتے ہوئے ممالک کا ایک فورم معاشی طور پر نقصان دہ پالیسیوں، مثلاً مغربی پابندیوں، کے خلاف متحد ہوسکتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ سات سال میں پہلی مرتبہ بھارت کا دورہ کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس سے برکس کو بیجنگ کی جانب سے دی جانے والی اہمیت اجاگر ہوتی ہے اور توسیع شدہ گروپ کو متحد رکھنے کی کوششوں میں میزبان بھارت کے ساتھ چین کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ایران کے مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے سیرل رامافوسا، مصر کے عبدالفتاح السیسی اور انڈونیشیا کے پرابوو سوبیانتو بھی اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی شریک ہوں گے۔

متحدہ عرب امارات کی نمائندگی ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی جانب سے کیے جانے کا امکان ہے۔

ایران جنگ کے باعث برکس کو منفی اثرات کا سامنا
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کو کہا کہ متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان اختلافات نے ’’منفی اثرات‘‘ مرتب کیے ہیں اور مشترکہ اعلامیے کا ’’مسودہ تیار کرنے‘‘ کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ رہنما ایسی عبارت پر اتفاق کرلیں گے جو دونوں ممالک کے لیے قابلِ قبول ہو۔

ابتدائی طور پر برازیل، روس، بھارت اور چین پر مشتمل برکس میں بعد ازاں جنوبی افریقہ بھی شامل ہوا، جبکہ اب مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کی شمولیت سے اس کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے، جو عالمی جنوب کی وسیع تر نمائندگی کے اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی عرب کی گروپ میں حیثیت اب بھی واضح نہیں، کیونکہ اس نے مکمل رکنیت قبول نہیں کی، تاہم وہ نچلی سطح کے وفود کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود بھی نئی دہلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین نے کہا، ’’برکس کے بعض نئے ارکان، ایران اور متحدہ عرب امارات، جبکہ مصر اور ایتھوپیا بھی کشیدگی میں الجھے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان اتفاقِ رائے بہت کم ہے۔ یہ ایسے ادارے کے لیے اچھی خبر نہیں جو اتفاقِ رائے کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہاں ایک عجیب تضاد ہے: برکس کی توسیع اس کی بڑھتی ہوئی کشش اور اہمیت کی عکاسی کرتی ہے، لیکن نئے ارکان کے مختلف نقطۂ نظر کے باعث یہی توسیع گروپ کو کم مؤثر بھی بنا سکتی ہے۔‘‘

مئی میں نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جاسکا تھا۔

بھارت کے مرکزی بینک نے برکس کی ڈیجیٹل کرنسیوں کو باہم منسلک کرنے کی تجویز دی ہے، ذرائع

تاہم رواں ماہ کے آغاز میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہ اجلاس امید کی ایک وجہ بنا، کیونکہ اس کے ارکان نے ایران تنازع پر ایسی زبان پر اتفاق کرلیا جو مختلف مؤقف رکھنے والے ممالک کے لیے قابلِ قبول تھی۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، شی جن پنگ، پیوٹن اور پزشکیان سمیت دیگر رہنماؤں نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے، جس میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائی اور مغربی پابندیوں کی مذمت کی گئی۔

سابق بھارتی سفارت کار راجیو بھاٹیہ نے کہا کہ ایس سی او کے سربراہ اجلاس میں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے، جس میں متحدہ عرب امارات شامل نہیں، نے برکس کے اندر موجود اختلافات ختم کرنے کی امید پیدا کردی ہے۔

بھاٹیہ نے کہا، ’’ایس سی او کے سربراہ اجلاس میں بشکیک میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایس سی او میں امریکا کے حامی ممالک کی موجودگی کے باوجود ’’وہ ایسی عبارت تیار کرنے میں کامیاب رہے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول تھی۔‘‘

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تحفظ پسندانہ پالیسی اور یکطرفہ محصولات کے اقدامات نے برکس ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کی وجوہ فراہم کردی ہیں اور اس کے نتیجے میں مختلف ممالک کے رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ یا سہ فریقی ملاقاتوں کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔

رواں ماہ کے اواخر میں شی جن پنگ کے امریکا کا دورہ کرنے کی توقع ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا وہ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل نئی دہلی میں سربراہ اجلاس کے موقع پر پیوٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔

اہم دوطرفہ ملاقاتیں
مشرقِ وسطیٰ پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششوں کے علاوہ توجہ مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ دوطرفہ ملاقات اور مودی و پیوٹن کے درمیان طے شدہ مذاکرات پر بھی مرکوز رہے گی۔

مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ ملاقات گزشتہ سال متنازع ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آنے کے بعد سے ان کی تیسری ملاقات ہوگی۔

توقع ہے کہ شی جن پنگ سربراہ اجلاس کے موقع پر مودی سے مذاکرات کریں گے، جس میں دونوں رہنما تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوششوں اور معاشی روابط مزید گہرے کرنے کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

پیسکوف نے منگل کو کہا کہ پیوٹن سربراہ اجلاس سے قبل جمعہ کو مودی کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے، جبکہ تجارت اور اقتصادی تعاون بات چیت کے ایجنڈے میں نمایاں رہنے کا امکان ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہورہی ہے جب روس بھارت کو توانائی فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جبکہ نئی دہلی روس کے ساتھ اپنی دیرینہ تزویراتی شراکت داری کو برقرار رکھنے اور روسی تیل کی خریداری پر واشنگٹن کے دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے