لاڑکانہ پیرامیڈیکل اسٹاف کی رہائش گاہیں مسمار، نئی عمارت کی تعمیر میں تاخیر، ملازمین پریشان

شیئر کریں

لاڑکانہ: لاڑکانہ میں پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن سندھ کے مرکزی صدر شاہی خان جاگیرانی نے تنظیم کے مقامی رہنماؤں ذوالفقار سہتو، غلام حسین جلبانی، قیصر لہر اور دیگر کے ہمراہ لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی منظوری سے سی ایم سی اسپتال سٹی بلاک لاڑکانہ میں پیراگون کمپنی کے تحت 600 بستروں پر مشتمل ٹاور سسٹم اسپتال کا منصوبہ شہریوں اور گردونواح کی عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے،

جس کی تعمیر تین مراحل میں مکمل کی جانی ہے، تاہم منصوبے کے لیے مختص اراضی میں پیرا میڈیکل اسٹاف کے رہائشی کوارٹرز موجود تھے جنہیں گزشتہ دسمبر سے خالی کرانے کا عمل شروع کیا گیا اور پہلے مرحلے کی تعمیر سے قبل کوارٹرز مسمار کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر اس وقت ایم ایس سی ایم سی اسپتال لاڑکانہ اور دیگر حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کوارٹرز خالی کرنے کے بعد چھ ماہ کے اندر متبادل جگہ پر نئے کوارٹرز تعمیر کرکے دیے جائیں گے،

جس کے بعد ٹیچنگ اسپتال کے عقب میں 18 ہزار مربع فٹ کا پلاٹ مختص بھی کیا گیا، مگر چھ ماہ گزرنے کے باوجود وہاں تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا، جس کے باعث متاثرہ ملازمین اور ان کے اہلخانہ مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعمیراتی کمپنی پہلے مرحلے کے لیے مختص علاقے سے آگے بھی بغیر متبادل جگہ اور مناسب نوٹس کے راستے بند کرکے تعمیراتی حدود میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ بھاری مشینری، دھول مٹی اور گاڑیوں کی آمدورفت کے باعث اسپتال میں زیر علاج مریضوں، علاج کے لیے آنے والے شہریوں اور رہائشی خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کئی افراد سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شکایات کے بعد ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ اور ایم ایس لاڑکانہ نے موقع کا دورہ کرکے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملازمین اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہیں ہونے دیا جائے گا، جبکہ پیرا میڈیکل اسٹاف کے لیے فلیٹ سسٹم تیار کرنے کی کاغذی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور دوسرے مرحلے کی تعمیر سے قبل فلیٹس فراہم کیے جائیں گے، تاہم اس کے باوجود تعمیراتی کمپنی کے بعض انتظامی ذمہ دار مبینہ طور پر ضلعی انتظامیہ کو گمراہ کرتے ہوئے بغیر نوٹس اور متبادل انتظام کے تعمیراتی کام میں توسیع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وی آئی پی روڈ پر واقع رہائشی کوارٹر کی دیوار بھاری مشینری کے ذریعے گرا دی گئی، جس سے زوردار دھماکا ہوا اور تقریباً 100 سال پرانے رہائشی کوارٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ شاہی خان جاگیرانی نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سندھ کے وزیراعلیٰ، صوبائی وزیر صحت، ایم پی اے لاڑکانہ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ پیرا میڈیکل ملازمین کے لیے فوری طور پر متبادل رہائشی کوارٹرز تعمیر کیے جائیں تاکہ ان کی پریشانی اور مایوسی کا خاتمہ ہوسکے، بصورت دیگر وہ پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے