وہ تھکن جو دکھائی نہیں دیتی: عورت کی صحت پر مسلسل ذمہ داریوں اور ذہنی بوجھ کے خاموش اثرات (حصہ اول) ڈاکٹر سائرہ بانو

شیئر کریں

گھر بظاہر پرسکون ہے۔

بچے اپنے معمول میں مصروف ہیں، کھانا وقت پر تیار ہے، گھر کے ضروری کام ہو چکے ہیں، کسی بزرگ کی دوا بھی وقت پر دے دی گئی اور اگلے دن کی کئی ضروریات بھی ذہن میں ترتیب پا چکی ہیں۔

سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے۔

مگر اس سارے معمول کو چلانے والی عورت کے اندر کیا چل رہا ہے؟

شاید جسم میں بوجھل پن۔

شاید کندھوں میں مسلسل کھنچاؤ۔

شاید ذہن میں ایک نہ ختم ہونے والی فہرست۔

اور شاید ایک ایسی تھکن جسے وہ خود بھی کوئی نام نہیں دے پاتی۔

ہم عموماً تھکن کو زیادہ کام کرنے کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ کچھ دیر آرام، ایک کپ چائے یا ایک رات کی نیند—اور مسئلہ ختم۔

مگر ہر تھکن اتنی سادہ نہیں ہوتی۔

## جب آرام کے باوجود جسم تازہ نہ ہو

طبی اعتبار سے کام یا جسمانی سرگرمی کے بعد تھکن محسوس ہونا معمول کی بات ہے۔ تشویش اس وقت ہونی چاہیے جب مناسب آرام کے باوجود توانائی بحال نہ ہو۔

صبح اٹھتے ہی جسم بھاری محسوس ہو۔

معمولی کام مشکل لگنے لگیں۔

ذہنی توجہ برقرار نہ رہے۔

چڑچڑاہٹ بڑھ جائے۔

نیند پوری ہونے کے باوجود تازگی محسوس نہ ہو۔

ایسی علامات کو صرف ’’عمر کا تقاضا‘‘، ’’گھر کی مصروفیت‘‘ یا ’’خواتین کے ساتھ تو ایسا ہوتا ہی ہے‘‘ کہہ کر نظر انداز کرنا درست نہیں۔

مسلسل تھکن کے پس منظر میں خون کی کمی، تھائیرائیڈ کے مسائل، غذائی کمی، ہارمونل تبدیلیاں، نیند کی خرابی، پانی کی کمی، طویل بیماری یا بعض ادویات کے اثرات سمیت مختلف طبی عوامل موجود ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے طویل عرصے تک رہنے والی تھکن میں مناسب طبی جائزہ ضروری ہے۔

## جسم کے ساتھ ذہن بھی کام کرتا ہے

عورت کے روزمرہ کاموں کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔

کب گھر کا راشن ختم ہوگا؟

بچے کی فیس کب جمع کرانی ہے؟

امی یا ابو کی دوا کتنی باقی ہے؟

اگلے ہفتے کس کی اپائنٹمنٹ ہے؟

کس بچے کا یونیفارم تیار نہیں؟

گھر میں آنے والے مہمانوں کے لیے کیا انتظام کرنا ہے؟

یہ تمام باتیں ذہن میں محفوظ رکھنا، ان کی منصوبہ بندی کرنا اور صحیح وقت پر انہیں مکمل کروانا ایک مستقل ذہنی ذمہ داری ہے۔

اسے جدید اصطلاح میں *Mental Load* کہا جاتا ہے۔

یہ بوجھ ہاتھ میں اٹھائے ہوئے وزن کی طرح نظر نہیں آتا، لیکن ذہن مسلسل اس کے نیچے کام کرتا رہتا ہے۔

نتیجہ؟

ذہنی تھکن، بے دلی، چڑچڑاہٹ، توجہ کی کمی اور بعض اوقات یہ احساس کہ:

*’’میں کچھ بھی مکمل نہیں کر پا رہی۔‘‘*

حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں بہت کچھ سنبھال رہی ہوتی ہے۔

جذباتی تھکن کو بھی پہچانیے

ہر تھکن جسم سے شروع نہیں ہوتی۔

بعض خواتین مسلسل دوسروں کے جذبات سنبھالتے سنبھالتے خود جذباتی طور پر خالی ہونے لگتی ہیں۔

بچے پریشان ہوں تو ماں تسلی دیتی ہے۔

شوہر دباؤ میں ہوں تو وہ ماحول بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

بزرگ بیمار ہوں تو ان کی تیمارداری کرتی ہے۔

خاندان میں اختلاف ہو تو اکثر وہ درمیان کا راستہ نکالتی ہے۔

لیکن اس عورت کے اپنے جذبات کون سنتا ہے؟

جذبات کو مسلسل دبانا، غم کو نظر انداز کرنا اور ہر حال میں مضبوط دکھائی دینے کی کوشش بھی ذہنی اور جسمانی توانائی کو متاثر کر سکتی ہے۔

کیا عورت اپنی صحت کو آخری نمبر پر رکھتی ہے؟

یہ منظر بہت عام ہے۔

بچے کی طبیعت خراب ہو تو فوراً ڈاکٹر۔

شوہر کو درد ہو تو اپائنٹمنٹ۔

بزرگوں کی دوا ختم ہونے والی ہو تو فوری انتظام۔

مگر خود کئی ہفتوں سے کمزوری محسوس ہو رہی ہو تو جواب ہوتا ہے:

*’’دیکھتے ہیں، ابھی وقت نہیں۔‘‘*

اپنی صحت کو مسلسل مؤخر کرنا خدمت نہیں۔

کیونکہ جب جسم طویل عرصے تک نظر انداز ہوتا رہے تو بعض اوقات ایک معمولی مسئلہ بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

قرآن و سنت ہمیں توازن سکھاتے ہیں

اسلام انسان کو اپنی ذمہ داریوں سے فرار نہیں سکھاتا، مگر اعتدال اور حقوق کی ادائیگی کی تعلیم ضرور دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی معروف تعلیم ہے:

*’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔‘‘*

یہ پیغام خصوصاً اس عورت کے لیے اہم ہے جو دوسروں کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے جسم کے حق کو بھول جاتی ہے۔

آرام، مناسب غذا، نیند اور علاج کو نظر انداز کرنا کوئی لازمی قربانی نہیں۔

اپنی صحت کی حفاظت بھی ذمہ داری ہے۔

جسم کے اشارے سننا سیکھیے

مسلسل تھکن کے ساتھ اگر سانس پھولنے لگے، دل کی دھڑکن غیر معمولی محسوس ہو، وزن میں غیر واضح تبدیلی آئے، شدید کمزوری ہو، مسلسل درد رہے یا روزمرہ زندگی واضح طور پر متاثر ہونے لگے تو طبی معائنہ ضروری ہے۔

ہر تھکن کا علاج وٹامن نہیں۔

ہر کمزوری کا حل چائے یا کافی نہیں۔

اور ہر درد کو Painkiller سے خاموش کرنا بھی دانش مندی نہیں۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جسم کہنا کیا چاہتا ہے۔

اگلی قسط میں…

کیا مسلسل تھکن سے نکلنے کے لیے صرف آرام کافی ہے؟

ہومیوپیتھی عورت کی جسمانی اور جذباتی کیفیت کو کس انداز سے دیکھتی ہے؟

فزیوتھراپی، یوگا، نرم مساج اور Relaxation Practices کس طرح ایک متوازن self-care plan کا حصہ بن سکتی ہیں؟

اور سب سے اہم سوال:

*اپنی مصروف زندگی کو روکے بغیر عورت اپنی توانائی دوبارہ کیسے حاصل کرے؟*

ان سوالات پر گفتگو اگلی قسط میں۔

Dr. Saira Bano

M.A, D.H.M.S, R.H.M.P, F.T.J. Diploma in Aesthetics

ڈاکٹر سائرہ بانو ایک معروف ہومیوپیتھک اور ہجامہ تھراپسٹ، ایستھیٹیشن، طبیبہ اور کروموپیتھ ہیں۔ وہ صحت، روحانیت اور متبادل طریقۂ علاج کے امتزاج پر مبنی شعور اجاگر کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
وہ President – Pakistan Preventive and Holistic Society (Women Wing) اور Vice President – SAARCGWI, Geneva, Switzerland کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ Patron – Pakistan Association of the Deaf اور Board Member – Help International Welfare Trust بھی ہیں۔

Dr. Saira Bano ایک ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن، مصنفہ، کالم نگار، آرٹسٹ، موٹیویشنل اسپیکر اور FM و ریڈیو ہوسٹ ہیں۔ صحتِ عامہ، خواتین کی فلاح، روحانی توازن اور قدرتی علاج ان کی تحریروں اور گفتگو کا خاص موضوع ہیں.

 

 


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے