بھیل انٹیلیکچوئل فورم انتخابی عمل متنازع، سیاسی سرگرمیوں کا الزام

شیئر کریں

سرکاری اسکول میں بھیل انٹیلیکچوئل فورم کے انتخابی اجلاس پر سوالات، تعلیم کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کا انکشاف

چھور: سرکاری تعلیمی اداروں کو تدریسی سرگرمیوں کے بجائے مختلف تنظیموں کے اجلاسوں اور انتخابی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بھیل انٹیلیکچوئل فورم یو سی پیلو کی نئی باڈی کے انتخاب کے لیے گاؤں روہیراری بھیل کے سرکاری اسکول میں اجلاس منعقد کیے جانے کے بعد مقامی حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکول طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے قائم کیے گئے ہیں، لیکن انہیں اوطاقوں اور میٹنگ مراکز کے طور پر استعمال کرنا تعلیمی ماحول کو متاثر کر رہا ہے۔

ان کا الزام ہے کہ اسکولوں میں پڑھائی کے بجائے مختلف قسم کی میٹنگز اور تنظیمی سرگرمیوں کا انعقاد تعلیم دشمن عمل ہے۔

مقامی افراد نے سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ اور محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور سرکاری اسکولوں کو غیر تدریسی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں کی یہی صورتحال برقرار رہی تو تعلیم کے فروغ کے بجائے جہالت میں اضافہ ہوگا، جس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں پر مرتب ہوں گے۔

رپورٹ: لالجی سوڈھو


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے