برطانیہ میں کی جانے والی ایک تازہ طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ ایک گلاس چقندر کے جوس کا استعمال دل کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ اس کے جسم پر مثبت اثرات خاص طور پر معمر افراد میں زیادہ نمایاں دیکھے گئے ہیں۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں کی گئی، جس میں نائٹریٹ سے بھرپور چقندر کے جوس کے انسانی جسم پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، یہ مشروب نہ صرف بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ یہ منہ میں موجود بیکٹیریا کے نظام میں بھی ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔
تحقیق میں مختلف عمر کے افراد کو شامل کیا گیا جن میں 30 سال سے کم عمر 39 افراد جبکہ 60 سے 80 سال کے درمیان 36 افراد شامل تھے۔ ان تمام شرکاء کو ایک کلینیکل ٹرائل کے تحت مختلف مراحل سے گزارا گیا، جن میں انہیں مخصوص وقفوں کے ساتھ چقندر کا قدرتی جوس اور اس کا ایک پلیسبو ورژن استعمال کرایا گیا۔
نتائج کے مطابق چقندر کے جوس کے استعمال سے منہ میں موجود مائیکرو بائیل ماحول میں واضح تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ خاص طور پر معمر افراد میں یہ تبدیلیاں زیادہ نمایاں تھیں، جہاں نقصان دہ بیکٹیریا کی تعداد میں کمی جبکہ صحت کے لیے مفید بیکٹیریا میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ چقندر میں موجود نائٹریٹ جسم کے اندر نائٹرک آکسائیڈ بنانے کے عمل میں معاون ثابت ہوتا ہے، جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور خون کی نالیوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں خاص طور پر ان افراد میں بلڈ پریشر میں کمی دیکھی گئی جن میں ابتدا میں اس کی سطح زیادہ تھی۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں قدرتی طور پر نائٹریٹ کی سطح کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں نائٹریٹ سے بھرپور غذا، خصوصاً چقندر کا استعمال، اس کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، اس سے قبل 2022 میں کوئین میری یونیورسٹی لندن کی ایک تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ چقندر کا جوس دل کی شریانوں کے مسائل میں مبتلا افراد میں سوزش اور ورم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جو ہارٹ اٹیک کے خطرات کو کم کرنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چقندر کا جوس جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی سطح کو بڑھا کر خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے اور ان خلیات کی فعالیت میں اضافہ کرتا ہے جو دل کی شریانوں کو صحت مند رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ تحقیق طبی جریدے فری ریڈیکل بایولوجی اینڈ میڈیسن میں شائع ہوئی ہے، جسے دل کی صحت اور غذائی نائٹریٹ کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔




