بیجنگ: چینی محققین نے طبی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کا پہلا سائنو ایٹریل نوڈ لیبارٹری میں کامیابی سے تیار کر لیا ہے۔ یہ انسانی جسم کا وہ اہم ترین حصہ ہے جو دل کے قدرتی پیس میکر کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انسانی دل میں موجود یہ چھوٹا سا نوڈ برقی سگنلز پیدا کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن مسلسل اور باقاعدہ رہتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ نظام خراب ہوتا ہے تو دل کے چیمبرز کے درمیان توازن بگڑ جاتا ہے اور زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
طبی و سائنسی ماہرین نے اب انسانی پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز کی مدد سے ایک جدید تھری ڈی ماڈل تخلیق کیا ہے جو بالکل قدرتی نوڈ کی طرح کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مصنوعی پیس میکر نہ صرف خود بخود دھڑک سکتا ہے بلکہ خون کی گردش کو بھی متوازن رکھتا ہے۔
یہ ایجاد دل کی بیماریوں پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اب نئی ادویات کی جانچ زیادہ درست طریقے سے کی جا سکے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بائیولوجیکل پیس میکر مستقبل میں مریضوں کے لیے ایک بہترین متبادل ثابت ہوگا۔
پیس میکر کی ناکامی کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا علاج اب اس جدید ٹیکنالوجی سے ممکن نظر آتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کے علاج کے روایتی طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی اور انسانی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
سائنس کی دنیا میں یہ کامیابی دل کے امراض کے علاج کے لیے ایک نئی امید کی کرن بن کر ابھری ہے۔ اس سے قبل دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے کے لیے مصنوعی مشینری کا سہارا لیا جاتا تھا، تاہم اب بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے قدرتی انداز میں علاج کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
اس تحقیق سے وابستہ سائنس دانوں نے کہا کہ یہ ماڈل دل کے کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنے میں بھی مدد دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کامیابی کے بعد طبی دنیا میں نئی ادویات کے ٹرائلز اور پیچیدہ دل کی سرجریوں کے نتائج میں بہتری آنے کی توقع ہے۔




