امریکہ اور چین کے بارے میں مقبول عام بیانیہ یہ ہے کہ دنیا کی دو عظیم ترین طاقتوں کے درمیان معاشی و سیاسی جنگ جاری ہے جس کا نتیجہ کسی ایک ملک کی مکمل شکست کی صورت میں برآمد ہونا ناگزیر ہے۔ اس بیانیے کے پس منظر میں نو سال بعد منعقد ہونے والی چین اور امریکہ کی سربراہی ملاقات پر دنیا کی نظریں مرکوز تھیں اور ہر طرف منفی قیاس آرائیوں کا بازار گرم تھا۔
صدر ٹرمپ کا چین میں شاہانہ استقبال کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ چین سے روانگی سے قبل صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ نے تنہائی میں ٹہلتے ہوئے ایسے حساس اور نازک امور پر گفتگو کی جنہیں صیغہ راز میں رکھنا زیادہ مناسب خیال کیا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ، 13 ٹریلین ڈالر مالیت رکھنے والی دنیا کی 14 بڑی امریکی کمپنیوں کے سی ای اوز کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ یہ ان کی جانب سے واضح پیغام تھا کہ امریکہ محاذ آرائی نہیں کاروبار چاہتا ہے۔ دوسری جانب صدر شی بھی اسی انداز سے سوچ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مشترکہ مفادات ہمارے اختلافات سے کہیں زیادہ اہم ہیں، چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔ اس تاریخی ملاقات کے ابتدائی تاثر نے کم از کم اس ’مقبول‘ بیانیے کی نفی کر دی ہے کہ دنیا کے ان دو طاقت ور ترین ملکوں کے درمیان ایک ’وجودی جنگ‘ ناگزیر ہے۔
امریکہ اور چین جانتے ہیں کہ 110 ٹریلین کی عالمی جی ڈی پی میں ان کا مشترکہ حصہ 47.4 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ لہٰذا دونوں کا مفاد اس میں ہے کہ وہ باہم مل کر دنیا کی رہنمائی کریں اور ایک نئے کثیر الجہتی عالمی نظام کے خد و خال تشکیل دیں۔ دونوں ملکوں کی سوچ میں یہ ڈرامائی تبدیلی راتوں رات رونما نہیں ہوئی، اس کی ایک تاریخ ہے۔ 1990 سے لے کر آج تک مختلف سیاسی اختلافات کے باوجود چین اور امریکہ کے درمیان انتہائی گہرے معاشی تعلقات قائم ہیں اور دونوں دو طرفہ مفادات کا بہترین ادراک رکھتے ہیں۔
چین جانتا ہے کہ اسے دوسری بڑی عالمی معیشت بنانے میں امریکہ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ڈنگ ژیاؤ پنگ کی ’اوپن ڈور پالیسی‘ اور کم پیداواری لاگت کا فائدہ اٹھا کر امریکی کمپنیوں نے چین میں سیکڑوں صنعتی یونٹس لگائے۔ ان کمپنیوں نے کئی ٹریلین ڈالر کا منافع ضرور کمایا لیکن اس کے ساتھ انہوں نے جدید ترین ٹیکنالوجی، کارپوریٹ مینجمنٹ کا تجربہ اور مارکیٹنگ کی مہارت چین کو منتقل کی جس کا اسے بھرپور فائدہ ہوا۔ چین نے دنیا کی فیکٹری بن کر کھربوں ڈالر کمائے، ملک میں روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوئے اور بدترین غربت کا خاتمہ ہو گیا۔ چین کے نوجوانوں نے امریکہ کی بہترین دانش گاہوں سے جدید سائنس، انجینئرنگ، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور کاروباری مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی اور اپنے ملک واپس جا کر وہاں کی ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے عمل کو تیز تر کیا۔
چین، امریکہ کی حمایت سے 2001 میں ڈبلیو ٹی او کا رکن بنا جس کے بعد اس کی بے مثال ترقی کا دور شروع ہوا۔ 2001 میں امریکہ 729 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا، چین کی برآمدات اس سے تین گنا کم یعنی 226 ارب ڈالر تھیں اور وہ چوتھے درجے پر تھا۔ 2025 میں چین جست لگا کر پہلے درجے پر آ گیا اور اس کی برآمدات 3 ہزار 590 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، امریکہ کی برآمدات 1 ہزار 900 ارب ڈالر تھیں اور وہ پہلے سے دوسرے درجے پر آ گیا۔ بیرونی تجارت میں چین کو سالانہ ایک ٹریلین ڈالر کا فائدہ جب کہ امریکہ کو ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ امریکہ، چین کا پہلا جبکہ چین، امریکہ کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ معیشت اور تجارت میں مسابقت ایک فطری امر ہے لیکن اس کی اپنی محدودات بھی ہیں۔ لہٰذا یہ خیال درست نہیں کہ چین اور امریکہ ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کی جتنی ضرورت آج ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔
چین کی معاشی ترقی میں اشیاء کی برآمدات کا بنیادی کردار ہے، اس کے برعکس امریکہ درآمدی اشیا کی کھپت کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ امریکہ میں فی کس آمدنی 94 ہزار ڈالر ہے۔ اس کا صارف اپنی بے پناہ قوت خرید کے باعث دنیا کی ہر چیز خریدنے کی طاقت رکھتا ہے۔ امریکہ کی منڈی انتہائی کم ٹیرف پر دنیا کے ہر ملک کے لیے کھلی ہے۔ اس منفرد صورت حال کا نتیجہ ہے کہ امریکہ کو تجارت میں ہر ملک سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
چین کی آبادی امریکہ سے چار گنا زیادہ ہے لیکن اس کی فی کس آمدنی صرف 14 ہزار ڈالر ہے۔ چینی صارفین کی قوت خرید انتہائی کم ہونے کے باعث ملکی منڈی میں اشیاء کی کھپت بھی محدود ہے۔ چین کی فیکٹریاں جو سستا مال تیار کرتی ہیں اس کی بیرونی کھپت ملکی کھپت سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے تجارت کا توازن ہمیشہ چین کے حق میں ہوتا ہے اور اس سے تجارت کرنے والا ہر ملک نقصان میں رہتا ہے۔
چین کی معاشی ترقی کا بڑا انحصار چونکہ برآمدات پر ہے لہٰذا وہ کسی قیمت پر امریکہ جیسی غیرمعمولی منڈی کو کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ یہ چین کے خود اپنے مفاد میں ہے کہ وہ متوازن ٹیرف کے ذریعے، اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں اس کی مدد کرے۔
امریکہ کو اپنے بجٹ خسارے میں کمی لانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کی فوری ضرورت ہے۔ امریکہ، سرمایہ کاری کے لیے ہر ملک کو پیداوار پر صفر ٹیکس اور صارفین کی طاقتور منڈی فراہم کرنے کی پرکشش ترغیب دے رہا ہے۔ چین کے پاس کھربوں ڈالر کا اضافی سرمایہ موجود ہے، وہ اس پیش کش کا یقیناً فائدہ اٹھانا چاہے گا۔ امکان ہے کہ چین، امریکہ میں جلد ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ امریکہ تجارتی خسارے میں کمی کے لیے چین سے برآمدات بڑھانا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق چین 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر تیار ہے۔ علاوہ ازیں، چین نے امریکہ سے مزید خام تیل خریدنا شروع کر دیا ہے جو اس امر کا اظہار بھی ہے کہ اس کی نظر میں، امریکہ سے بہتر معاشی تعلقات ایران کے سستے تیل سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
عالمی تجارت میں چین اور امریکہ کا مشترکہ حصہ 40 فیصد ہے۔ دونوں ملک دنیا کی معیشت کے طاقت ور ترین انجن ہیں۔ ہموار اور بلا رکاوٹ بین الاقوامی تجارت ان کی اولین ترجیح ہے۔ دنیا کی % 70 تجارت سمندروں کے ذریعے ہوتی جس پر لاگت بھی بہت کم آتی ہے۔ اہم آبی گزر گاہوں کو کھلا رکھنے میں چین و امریکہ سمیت ہر ملک کا مفاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرامن اور سب کے لیے آزاد آبنائے ہرمز کے مسئلے پر چین اور امریکہ کے موقف میں ہم آہنگی ہے۔ چین اور امریکہ کی رائے ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ اس نقطہٴ نظر میں یہ دانش کارفرما ہے کہ انتہا پسندی کی طرف مائل حکومتیں کسی بھی وقت ایٹمی مہم جوئی کر سکتی ہیں یا ایٹمی صلاحیت کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا سکتی ہیں لہٰذا انہیں روکا جانا ضروری ہے۔ امریکی صدر کا یہ کہنا چین کی جانب مفاہمت کا ایک بہت بڑا قدم ہے کہ امریکہ 9500 میل کا سفر کر کے تائیوان کی جنگ لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
امریکہ اور چین کی پالیسیوں میں اتنی بنیادی تبدیلی دنیا کا سیاسی منظر نامہ بدل کر اسے زیادہ محفوظ بنا دے گی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی ملاقات اور مفاہمت کی جانب اس تاریخی پیش رفت نے دو عظیم طاقتوں کے درمیان ناگزیر ٹکراؤ کے ’مقبول عام‘ تجزیوں کی بساط الٹ دی ہے۔
بشکریہ: ہم سب




