پاکستان اس وقت ایک عجیب سیاسی و معاشی تماشے کا اسیر ہے۔ ایوانوں میں تقریریں ہیں، بیانات ہیں، ملاقاتیں ہیں، تصویریں ہیں، مگر غائب صرف وہ آدمی ہے جو صبح آٹے کی قیمت پوچھتا ہے، شام کو بجلی کا بل دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے اور رات کو بچوں کے بھوکے سوالوں سے نظریں چرا لیتا ہے۔ صدرِ مملکت وزیر اعظم سے ملتے ہیں تو خبر یہ جاری ہوتی ہے کہ دونوں عام آدمی کی مشکلات پر فکرمند ہیں۔ میاں نواز شریف اپنے بھائی وزیر اعظم اور بیٹی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرتے ہیں تو ہدایت دیتے ہیں کہ عوام کو ریلیف دیا جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ریاست کے تمام طاقتور مراکز واقعی پریشان ہیں تو پھر یہ پریشانی عوام کی زندگی میں کیوں نظر نہیں آتی؟
گزشتہ چند برس پاکستان کی معاشی تاریخ کے سخت ترین برسوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 2023 میں مہنگائی کی اوسط شرح تقریباً 29 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ بعض مہینوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ 40 فیصد سے بھی اوپر گیا،یہ فنانس ڈویژن بتاتا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، دودھ، سبزیاں، ہر چیز متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے دور ہوتی چلی گئیں۔ پٹرول، جو پاکستان میں ہر شے کی قیمت متعین کرتا ہے، دو برسوں میں کئی مرتبہ بڑھا اور کم ہوا، مگر مجموعی طور پر اس کا بوجھ عوام کی کمر توڑ گیا۔ایران امریکہ جنگ کی آڑ میں حکومت نے پٹرول پر ٹیکس بڑھانے کا کھیل شروع کر رکھا ہے۔ کبھی آٹھ روپے کمی پر جشن منایا گیا، کبھی پندرہ روپے اضافے کو عالمی منڈی کا اثر کہہ کر خاموشی اختیار کر لی گئی۔ مگر سوال پھر وہی ہے کہ کیا ایک مزدور کی اجرت بھی اسی رفتار سے بڑھی؟
حکومت نے دو برسوں میں ریلیف کے کئی اعلانات کئے۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر سبسڈی، رمضان پیکج، احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ، بجلی کے بلوں میں وقتی ریلیف، کسان پیکج، نوجوانوں کے لئے قرضے اور کبھی کبھی پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اقدامات کا اثر سمندر میں قطرے سے زیادہ نہ تھا۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 میں اگرچہ مہنگائی کی رفتار کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آئی، مگر قیمتیں نیچے نہیں آئیں۔ یعنی عوام کو صرف یہ بتایا گیا کہ اب آپ کو پہلے کی نسبت آہستہ رفتار سے لوٹا جا رہا ہے۔یہ سرمایہ دارانہ نظام والی ریاستوں کا پرانا کھیل ہے۔
سوشلسٹ مفکر کارل مارکس نے کہا تھا کہ ریاست دراصل طاقتور طبقات کی محافظ ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ جملہ ایک زندہ حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ یہاں ٹیکس تنخواہ دار طبقہ دیتا ہے، مگر مراعات بڑے سرمایہ دار، جاگیردار، بیوروکریٹ، طاقتور ادارے اور سیاسی اشرافیہ لیتے ہیں۔ عام آدمی کے لئے بجلی مہنگی، مگر طاقتور طبقوں کے لئے سبسڈی۔ عوام کے لئے پٹرول پر لیوی، مگر اشرافیہ کے پروٹوکول میں درجنوں گاڑیاں۔ غریب کے لئے فاقہ، مگر ایوانوں میں ضیافتیں۔
حکومت بار بار کہتی رہی کہ آئی ایم ایف کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی۔ واقعی پاکستان نے گزشتہ دو برسوں میں آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر کے پروگرام لئے۔ 2023 میں تین ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی معاہدے سے لے کر 2024 کے سات ارب ڈالر کے توسیعی پروگرام تک، ہر معاہدے کے ساتھ بجلی، گیس اور پٹرول مہنگا ہوا۔ عوام کو بتایا گیا کہ یہ قربانی ریاست کو بچانے کے لئے ضروری ہے۔ مگر ریاست بچائی گئی یا صرف اشرافیہ کے مفادات؟ پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں عوامی خدمت سے زیادہ سیاسی مخالف کو شکست دینا اہم سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو جیل بھیجنے، میڈیا مہم چلانے، وفاداریاں تبدیل کرانے اور اقتدار کے کھیل میں تو غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر جب بات عام آدمی کے لئے پالیسی بنانے کی آتی ہے تو ان کی ذہانت اچانک مفلوج ہو جاتی ہے۔ سیاست میں حریف کو پچھاڑنا واقعی ایک صلاحیت ہے، مگر عوام کو ریلیف پہنچانا اس سے کہیں بڑی صلاحیت ہے اور یہی صلاحیت ہمارے حکمران طبقے میں ناپید دکھائی دیتی ہے۔
افسوس یہ بھی ہے کہ اس صورتحال پر وہ قوتیں بھی خاموش ہیں جو ماضی میں مہنگائی پر سڑکیں بھر دیا کرتی تھیں۔ اپوزیشن یا تو اپنے مقدمات میں الجھی ہوئی ہے یا اقتدار کے اگلے کھیل کی تیاری میں۔ مذہبی جماعتیں فلسطین، کشمیر اور عالمی سیاست پر جلوس نکال سکتی ہیں، مگر پاکستان کے مزدور، کسان اور تنخواہ دار طبقے کے لئے کوئی ملک گیر تحریک نظر نہیں آتی۔ پارلیمنٹ میں عوامی مسائل پر بحث کم اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ زیادہ ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا نظام مراعات یافتہ طبقات کے تحفظ کے لئے کھڑا ہے، جبکہ عوام صرف اعداد و شمار ہیں۔
عوامی فکر ہمیشہ یہ کہتی رہی ہے کہ جب دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔ ایک طرف پوش علاقوں میں نئے مالز، لگژری گاڑیاں اور مہنگے ریسٹورنٹس بڑھ رہے ہیں، دوسری طرف سرکاری اسپتالوں میں دوا نہیں، سرکاری اسکولوں میں استاد نہیں اور غریب کے چولہے میں آگ نہیں۔ یہ دو الگ پاکستان ہیں۔ ایک وہ جو طاقت، دولت اور مراعات کے حصار میں محفوظ ہے، دوسرا وہ جو ہر مہینے بجلی کے بل اور آٹے کی قیمت کے درمیان پس رہا ہے۔حکمران طبقات بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں، مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے۔ مگر ایک سوال ان تمام معاشی کامیابیوں کے منہ پر طمانچہ ہے کہ اگر معیشت بہتر ہو رہی ہے تو عوام کی زندگی کیوں بدتر ہو رہی ہے؟ آخر کیوں ایک متوسط طبقے کا آدمی اب گوشت خریدنے سے پہلے سوچتا ہے؟ کیوں ایک باپ اسکول فیس جمع کرانے سے پہلے قرض ڈھونڈتا ہے؟ کیوں ایک ریٹائرڈ بزرگ اپنی دوا آدھی کر دیتا ہے؟
ریاست صرف بجٹ، اعداد و شمار اور معاہدوں سے نہیں چلتی۔ ریاست اس اعتماد سے چلتی ہے جو عوام کو محسوس ہو کہ یہ ملک ان کا بھی ہے۔ جب عام آدمی کو یقین ہو جائے کہ تمام قربانیاں صرف اسی نے دینی ہیں اور تمام مراعات صرف اشرافیہ نے ہتھیانی ہیں تو پھر معاشرہ خاموش تو رہ سکتا ہے، مطمئن نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اس وقت اسی خاموش بے چینی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایوانوں میں ملاقاتیں جاری ہیں، ہدایات دی جا رہی ہیں، بیانات آ رہے ہیں، مگر شاید کسی کو یہ احساس نہیں کہ اختیار سے محروم لوگ صرف زندہ نہیں رہتے، ایک دن تھک بھی جاتے ہیں، اور مرحوم نذیر ناجی نے کہا تھا کہ ریاست عوام کے جغرافیہ کا نام ہے ، عوام تھک جائیں تو ریاست پر تھکن اتر آتی ہے۔
بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز




