مٹھی: عالمی یومِ صحافت کے موقع پر یونس بندھانی، فائزہ خان، نجمہ خان اور افشین اقبال نے دیہی صحافیوں کی حالتِ زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رورل رپورٹرز پاکستان کے دور دراز علاقوں کی آنکھ اور آواز ہیں جن کی مضبوطی پورے سماج کی مضبوطی سے جڑی ہے.
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی میں دیہی آبادی کا کلیدی کردار ہے، مگر بدقسمتی سے قومی میڈیا کی ترجیحات میں دیہی مسائل اور صحافیوں کی مشکلات شامل نہیں ہیں، جو کہ ایک سنگین قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے.
مین اسٹریم میڈیا میں رورل ایریاز کی کم نمائندگی اور شہری مسائل کو دی جانے والی ترجیح نے کمیونیکیشن امبیلنس اور محرومی کے احساس کو بڑھا دیا ہے.
رپورٹس کے مطابق دیہی صحافیوں کو نہ صرف جدید ڈیجیٹل ٹولز اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں، بلکہ انہیں معاشی عدم استحکام، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور غیر قانونی برطرفیوں جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے.
خصوصاً دیہی خواتین کی آواز اور ان کی معاشی و معاشرتی جدوجہد کو میڈیا میں وہ جگہ نہیں دی جا رہی جس کی وہ حقدار ہیں. علاوہ ازیں، رورل صحافی بااثر سیاسی افراد کی دھمکیوں، جھوٹے مقدمات اور ہراسانی جیسے براہِ راست سیکیورٹی خطرات کے سائے میں کام کر رہے ہیں.
پیشہ ورانہ تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے وہ تحقیق اور ڈیٹا تک رسائی سے بھی محروم ہیں. اس صورتحال کے پیشِ نظر بان بیلی اور شی لیڈز وومن نیٹ ورک میرپورخاص نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہری و دیہی تقسیم کو ختم کر کے رورل ایشوز کی منصفانہ نمائندگی یقینی بنائی جائے اور صحافیوں کو تنخواہ، تربیت اور سیکیورٹی فراہم کی جائے. میڈیا اداروں سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ استحصال پر مبنی پالیسیاں ترک کریں تاکہ صحافی آزادانہ اور ذمہ دارانہ طریقے سے اپنے فرائض انجام دے سکیں. آخر میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دیہی صحافیوں کو بااختیار بنائے بغیر ایک بہتر سماج کی تشکیل ممکن نہیں ہے.

رپورٹ : نند لال لوہانہ


