لاڑکانہ: لاڑکانہ میں گورنمنٹ ہائی اسکول غلام بھٹو کے میل و فی میل اساتذہ، طلبہ و طالبات اور عملے نے دو سال سے ایس ایم سی بجٹ نہ ملنے، سالانہ بجٹ میں کمی، فرنیچر اور اساتذہ کی شدید قلت، طلبہ کو بیگز، کھیلوں اور سائنسی سامان نہ ملنے کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر جناح باغ چوک پر مظاہرہ کیا،
ٹائر جلا کر دھرنا دیا اور شدید نعرے بازی کی جس کے باعث کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل رہی، بعد ازاں پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا،
اس موقع پر ہیڈماسٹر غلام مجتبیٰ بھٹو، فی میل ٹیچرز سمیرا بھٹو، رضیہ شیخ، شبروز بھٹو، اساتذہ تنویر احمد شیخ، محمد بخش مگسی، شفیع محمد بھٹو و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ ہائی اسکول غلام بھٹو شہر کے ان سرکاری اسکولوں میں شامل ہے جہاں تعلیم کا معیار بہتر ہے اور اس وقت پرائمری سے دسویں جماعت تک 1800 طلبہ زیر تعلیم ہیں،
اس کے باوجود سندھ سیکریٹریٹ سے لے کر محکمہ تعلیم لاڑکانہ کے افسران کی جانب سے ناانصافیاں کی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے اسکول کو ایس ایم سی بجٹ جاری نہیں کیا گیا جبکہ حال ہی میں صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی جانب سے نئے نظام کے تحت صرف 3 لاکھ روپے بجٹ دیا گیا جو انتہائی ناکافی ہے،
انہوں نے الزام لگایا کہ سندھ سیکریٹریٹ کی ایک ٹیم نے بجٹ بڑھانے کے لیے ان سے آدھی رقم بطور رشوت طلب کی جس سے انکار پر کم بجٹ جاری کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ دیگر اسکولوں جیسے گجن پور ہائی اسکول کو 56 لاکھ، ڈی سی اسکول کو 31 لاکھ اور لاہوری ہائی اسکول کو 42 لاکھ روپے دیے گئے حالانکہ وہاں طلبہ کی تعداد کم ہے، جبکہ ان کے اسکول میں سب سے زیادہ طلبہ ہونے کے باوجود ناانصافی کی گئی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ دو سال سے رکی ہوئی ایس ایم سی بجٹ فوری جاری کی جائے، طلبہ کی تعداد کے مطابق بجٹ میں اضافہ کیا جائے، فرنیچر اور اساتذہ کی کمی پوری کی جائے اور طلبہ کو بیگز، کھیلوں اور سائنسی سامان فراہم کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

رپورٹ: نادر ماری


