لاڑکانہ: مچھر کالونی کی رہائشی خاتون نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ الہ آباد تھانے کی پولیس کے مبینہ مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر احتجاج کرنے والی خاتون تہمینہ نے اپنے بیٹے علی دنو میمن، بہو ماروی، کاشف میمن، سجاد میمن اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ "میرا شوہر رحمت علی میمن محلے میں کریانے کی دکان چلا کر ہمارے گھر کا خرچ پورا کرتا ہے، مگر گذشتہ جمعے کے روز الہ آباد تھانے کی پولیس نے اُسے بے گناہ گرفتار کیا اور بعد ازاں اُس پر من گھڑت طور پر چرس کا مقدمہ درج کرکے اُسے جیل بھیج دیا۔تهمينه خاتون نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس ناانصافی کے خلاف ڈی آئی جی لاڑکانہ، ایس ایس پی اور دیگر اعلیٰ افسران کو تحریری طور پر شکایات بھی کیں، مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

خاتون نے الزام لگایا کہ آج صبح الہ آباد پولیس نے ایک بار پھر ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور میرے 17 سالہ بیٹے علی دنو میمن کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، ساتھ ہی ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر واپس چلی گئی، جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔تهمينه خاتون نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی لاڑکانہ، ایس ایس پی اور دیگر ذمہ دار حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لے کر الہ آباد پولیس کے خلاف کارروائی کریں، اُن کے شوہر کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
نمائندہ تعبیر وطن


