لاڑکانہ: سندھ کے نامور گلوکار ضامن علی نے لاڑکانہ پریس کلب کا دورہ کیا، جہاں پریس کلب کے صدر نوید لاڑک، نائب صدر مرتضیٰ کلہوڑو، جنرل سیکریٹری عبدالقادر جاگیرانی، جوائنٹ سیکریٹری سلامت ابڑو اور دیگر صحافیوں نے انہیں سندھ کی ثقافتی اجرک اور ٹوپی پیش کی۔
اس موقع پر نامور گلوکار ضامن علی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گائیکی معشوق شر کے بس کی بات نہیں، وہ اگر مزاح کرتے ہیں تو وہ اپنی جگہ درست ہے، مگر ان کا فن راگ کے زمرے میں نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں اچھی شاعری اور اصل موسیقی سننے والوں کی تعداد کم ہو گئی ہے، جبکہ غیر معیاری اور فحش شاعری کو پسند کرنے والوں میں اضافہ ہوا ہے، اسی وجہ سے معشوق شر جیسے فنکاروں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر معیاری شاعری اور اصل موسیقی کے سننے والے زیادہ ہوں تو اچھے فنکار بھی سامنے آئیں گے۔ ماضی میں سننے والے باشعور تھے، مگر آج غیر سنجیدہ فن کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔
ضامن علی نے واضح کیا کہ ان کا معشوق شر سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں، مگر ان کا فن کلاسیکل موسیقی میں شمار نہیں ہوتا۔
ضامن علی کا کہنا تھا کہ فنکار پروگراموں کے ذریعے اچھی آمدنی حاصل کرتے ہیں، اگر وہ اپنی کمائی کو بچت میں بدلیں تو مشکل وقت میں مالی امداد کے لیے اپیلیں نہ کرنی پڑیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی گلوکار شراب نوشی کے باعث بڑھاپے میں بیمار ہو جاتے ہیں اور بعد میں علاج کے لیے سرکاری مدد مانگتے ہیں، حالانکہ اگر اپنی کمائی محفوظ رکھی جائے تو وہی رقم بیماری کے وقت کام آ سکتی ہے۔
انہوں نے فنکاروں کو شراب سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، فن کی ایک ہی زبان ہوتی ہے۔
سندھ کے فنکاروں کو اترادی یا تھری جیسے علاقوں میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ تمام فنکار برابر ہیں، تھر کے فنکار بھی نہایت اعلیٰ ہیں اور انہیں خاص طور پر زوار فقیر کا فن بہت پسند ہے۔
صوبائی وزیر سردار شاہ کے موسیقی میں پیدا ہونے والے خلا سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ضامن علی نے کہا کہ یہ خلا دراصل معیاری موسیقی کو کم سننے کا نتیجہ ہے، جو واقعی سندھ میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر فحاشی پھیلانے والے فنکار زیادہ مقبول ہو رہے ہیں، جو ایک المیہ ہے۔ سارا کھیل ویوز حاصل کرنے کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں آج کل شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، شیخ ایاز اور استاد بخاری جیسے عظیم شاعروں کو بہت کم سنا جا رہا ہے، جبکہ بیرون ملک مقیم سندھی ان شعرا کی شاعری کو بے حد پسند کرتے ہیں اور انہی کے کلام گانے کی فرمائش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں لاہوتی میلہ سمیت کئی اہم ثقافتی ایونٹس منعقد ہوتے ہیں، جہاں تمام فنکاروں کو اپنے فن کے اظہار کا موقع دیا جاتا ہے، جو ایک خوش آئند بات ہے۔ بیرون ملک مقیم سندھیوں کا موسیقی سے ذوق بہت اعلیٰ ہے اور وہاں انہیں بے حد مثبت ردعمل ملتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ دبئی، سعودی عرب، قطر، بھارت، برطانیہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور اب امریکا اور کینیڈا میں پرفارم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جس کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
ضامن علی نے کہا کہ سندھ میں سیکیورٹی کے مسائل کے باعث فنکار خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور وہ خود بھی اس حوالے سے بہت احتیاط کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیریئر کے آغاز میں انہیں بہت اچھی پذیرائی ملی، مگر اب مستقبل غیر واضح نظر آتا ہے کیونکہ یہ دور سوشل میڈیا، آٹو ٹیون اور سافٹ ویئر کا ہے، جبکہ ان کا کام خالص ہارڈ ویئر پر مبنی ہے۔
آج کل سافٹ ویئر کے ذریعے کوئی بھی گلوکار بن جاتا ہے، جبکہ اصل راگ باقاعدہ سیکھنے سے آتا ہے۔انہوں نے لاڑکانہ شہر سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں کئی پروگرام کر چکے ہیں اور ہمیشہ محبت ملی ہے۔
آج بھی ایک پروگرام کے سلسلے میں لاڑکانہ آئے ہیں اور پریس کلب آ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ موسیقی کو حرام کہنا درست نہیں، بلکہ ہر اس چیز سے بچنا چاہیے جو انسان کو برائی کی طرف لے جائے۔ اصل راگ اور اچھی موسیقی روح کی غذا ہے۔

رپورٹ نادر مائری


