گھوٹکی: فری ایجوکیشن ایکٹ کے تحت کارروائیوں پر پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کو شدید تحفظات

شیئر کریں

ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ، ضلع گھوٹکی کا اہم اجلاس, نجی اسکولز کو تعلیمی بوجھ اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے، اجلاس کا مؤقف
گھوٹکی/سکھر: ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز (API) سندھ، ضلع گھوٹکی کا ایک اہم اجلاس مرکزی چیئرمین سندھ بشیر احمد چنہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل، بالخصوص فری ایجوکیشن ایکٹ 2013 کے تحت جاری حالیہ کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔


اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ میں اسکول ایجوکیشن کا پچاس فیصد سے زائد بوجھ نجی تعلیمی ادارے برداشت کر رہے ہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں اور محروم طبقات کے لاکھوں بچوں کو انتہائی کم فیس پر تعلیم فراہم کی جا رہی ہے، اس کے باوجود نجی اسکولز کو سزا کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔

شرکاء نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کی آڑ میں مقدس پیشے سے وابستہ اسکول انتظامیہ اور رعایت حاصل کرنے والے والدین کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

تصدیق کے بجائے تفتیش کا عمل اپنایا جا رہا ہے، جس کے باعث والدین اور اساتذہ کو صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک اپنے روزگار اور تدریسی ذمہ داریاں چھوڑ کر انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی شدید تنقید کی گئی کہ ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ معزز عدالت کے روبرو نجی اسکولز کا مؤقف اور فری ایجوکیشن ایکٹ 2013 کی درست تشریح پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر کم از کم ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر نجی اسکولز کی نمائندہ ایسوسی ایشنز اور فورمز کو اعتماد میں لیا جاتا تو معاملات بہتر سمت میں جا سکتے تھے۔


اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ عین اس وقت جب تعلیمی سیشن اپنے اختتام کے قریب ہے اور سالانہ امتحانات میں صرف دو ماہ باقی ہیں، تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کو غیر ضروری طور پر الجھا کر ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جا رہا ہے، جس سے براہ راست تدریسی عمل متاثر ہو رہا ہے اور اس کا نقصان صرف اور صرف طلبہ کو پہنچے گا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اس پورے عمل کو نئے تعلیمی سیشن تک مؤخر کیا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔

اجلاس نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم سندھ اور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سے مطالبہ کیا کہ فری ایجوکیشن/فری شپ سے متعلق ایکٹ کی ان شقوں پر بھی عمل درآمد یقینی بنایا جائے جن میں حکومتی ذمہ داریوں کا واضح طور پر ذکر موجود ہے۔

 

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سندھ اور API سندھ کی جانب سے ایڈیشنل ڈائریکٹر سندھ اور ریجنل ڈائریکٹر کو تحریری طور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اب ان کی جانب سے کارروائی کے منتظر ہیں۔

اجلاس نے یہ بھی اعلان کیا کہ سکھر میں منعقدہ جنرل اجلاس کے فیصلوں اور اتحادی تنظیموں سے مشاورت کے بعد قانونی چارہ جوئی اور عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

اجلاس نے مرکز کے تمام فیصلوں کی مکمل توثیق و حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نجی اسکول ایسوسی ایشنز کی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ کو فوری طور پر منظور کیا جائے تاکہ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کا حل نکل سکے اور وہ اپنی تمام تر توجہ بہتر اور معیاری تعلیم کی فراہمی پر مرکوز کر سکیں۔

اجلاس میں سینئر وائس چیئرمین محمد اقبال خان، سیکریٹری جنرل روبینہ کیانی، ڈپٹی سیکریٹری جنرل حافظ فاروق احمد، سیکریٹری فنانس محمد عظیم، ضلعی سرپرست مشتاق احمد لاشاری، ضلعی صدر مفتی علی احمد جلالی، ضلعی جنرل سیکریٹری احمد خان گڈانی، سابق ضلعی صدر ملک ندیم احمد، ثنااللہ گرگیج، شیر علی کلوڑ، ملک شبیراحمد، رانا وکیل احمد سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔

بیورو رپورٹ


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے