لاڑکانہ: چیف جسٹس سندھ، جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن لاڑکانہ کی جانب سے جس انداز میں مجھے سندھی ثقافت، پگڑی اور اجرک پیش کر کے عزت دی گئی، اس احساس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اجرک کے رنگ آپ کی محبت، خوشحالی اور خوشی کی علامت ہیں۔

یہ صرف ثقافتی تحفے نہیں بلکہ میرے لیے آپ کی محبت اور دعاؤں کا اظہار ہیں، جس پر میں دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آج یہاں اس بار کے دوستوں، نوجوان اور باصلاحیت وکلا سے چیف جسٹس ہائی کورٹ آف سندھ کی حیثیت سے خطاب کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔
میرا جج سے چیف جسٹس ہائی کورٹ آف سندھ تک کا سفر بارہ برسوں پر محیط رہا اور ان بارہ برسوں کے دوران میں نے دس سے زائد، بلکہ درست کہوں تو بارہ روسٹر سٹنگز میں سرکٹ کورٹ لاڑکانہ میں خدمات انجام دیں۔

الحمدللہ ان روسٹر سٹنگز میں میں نے لاڑکانہ میں صرف وقت نہیں بلکہ زندگی گزاری۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج میری تقریر تین نکات پر مشتمل ہے۔ پہلا نکتہ معاشرے میں انصاف کی اہمیت، دوسرا عدالتی انصاف اور تیسرا بار ایسوسی ایشن اور وکلا کے کردار سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف مضبوط، پُرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔ انصاف تمام اخلاقی اقدار کی روح ہے، کیونکہ اس کے بغیر نہ حقوق محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ جب افراد اور ادارے انصاف کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں تو سماجی بدعنوانی، جبر اور ناانصافی خود بخود ختم ہونے لگتی ہے۔ انصاف کے ذریعے کمزور کو سہارا ملتا ہے، طاقتور کی حدود مقرر ہوتی ہیں اور معاشرے میں برابری اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔ اس لیے انصاف محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ سماجی ترقی اور امن کی ضمانت بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے ایک منظم اور مضبوط عدالتی نظام نہایت ضروری ہے، جو ریاست میں لوگوں کی جان، مال اور حقوق کا تحفظ کرے اور یہ یقینی بنائے کہ ہر شخص کو اس کا حق ملے۔ عدالتی انصاف پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی انصاف مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی میں امن اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ عدالتی انصاف ایک پُرامن معاشرے کی اساس ہے، جو امن، استحکام، باہمی اعتماد اور انسانی وقار کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ افراد کے حقوق کے تحفظ، سماجی توازن کے قیام اور بدعنوانی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انصاف کے بغیر معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے اور جب لوگوں کو انصاف تک رسائی نہیں ملتی تو سماجی بگاڑ اور انتشار بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ریاست کی وحدت اور سالمیت کے لیے انصاف کا نظام بے حد اہم ہے۔ انہوں نے حضرت مولاعلیؓ کا قول بھی بیان کیا کہ انسان کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتا ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ ظلم کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو اس کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ تیسرے نکتے پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ وکلا کے اخلاقی کردار کو یقینی بناتی ہیں، قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتی ہیں اور عوام کے لیے قانونی خدمات تک رسائی آسان بناتی ہیں۔ بار ایسوسی ایشنز وکلا کی اہلیت اور دیانت داری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور قانونی پیشے کی آزادی کے تحفظ کے لیے بھی سرگرم رہتی ہیں۔ بار ایسوسی ایشن کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قانونی خدمات ہر شہری کے لیے، اس کی مالی حیثیت سے قطع نظر، دستیاب ہوں۔ یہ مسلسل قانونی تعلیم اور نئے وکلا کے لیے رہنمائی کے پروگرام فراہم کرتی ہیں، جس سے عدالتوں میں وکالت کا معیار برقرار رہتا ہے۔ بار اور بینچ کے درمیان باہمی احترام پر مبنی تعلقات عدالتی نظام کی بہتر کارکردگی اور مؤثر انصاف کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ مختصراً، جب بار ایسوسی ایشنز مؤثر انداز میں کام کرتی ہیں تو انصاف کا نظام مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔تقریب میں جسٹس شمس الدین عباسی، جسٹس عبدالحامد بھرگڑی، جسٹس ذوالفقار علی سانگی، جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس محمد جعفر رضا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سریش کمار، ہائی کورٹ بار لاڑکانہ کے صدر اطہر عباس سولنگی، نائب صدر نورالدین مہسر، جنرل سیکریٹری آصف حسین چانڈیو، ڈسٹرکٹ بار کے صدر محمد اسماعیل ابڑو، جنرل سیکریٹری غلام مصطفیٰ مگسی سمیت بڑی تعداد میں سینئر وکلا نے شرکت کی۔اس سے قبل چیف جسٹس سندھ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ہائی کورٹ لاڑکانہ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں مختلف ترقیاتی اسکیموں کا افتتاح بھی کیا.

رپورٹ نادر مائری


