لاڑکانہ: لاڑکانہ میں رئیس المہاجرین بئریسٹر جان محمد جونیجو کی 138 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے رہائشی پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کیک کاٹا گیا۔ تقریب میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر نامور عالم، ادیب اور محقق ڈاکٹر بدر دھامراھو نے صدارتی خطاب میں کہا کہ بئریسٹر جان محمد جونیجو بھٹائی کے کردار کی مانند مضبوط اور غیر متزلزل شخصیت کے مالک تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہجرت تحریک میں صرف جان محمد جونیجو ہی اصل ستون تھے، جبکہ ان کے دیگر ہمسفر غداری کرتے رہے اور تحریک کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہجرت تحریک پر مولانا دین محمد وفائی کی کتاب "یاد جانا” اچھی ہے، مگر اس میں کچھ مخفی حقائق بھی ہیں جن کی تحقیق کے لیے ممبئی پریڈینسی جانا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما مظہر علی خان جونیجو نے خصوصی مہمان کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بئریسٹر کے مقروض ہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کو ہم ابھی تک تسلیم نہیں کر سکے، مگر انشاء اللہ جلد تحقیقاتی کام کو آگے بڑھائیں گے تاکہ ہجرت تحریک کے تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
اعزازِ مہمان حمز علی سوھو نے کہا کہ انسانیت اور سماج کے لیے کام کرنے والے لوگ دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، اور بئریسٹر جان محمد جوونیجو بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ وہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے اور انگریز سامراج کو للکارا۔ انہوں نے کہا کہ خلافت تحریک ایک روشن باب ہے جسے فراموش نہیں ہونے دینا چاہیے۔
بالک ادب کے مصنف استاد گل دايو نے کہا کہ بئریسٹر جان محمد جوونیجو اپنے مقصد کے ساتھ سچے انسان تھے، انہوں نے جان قربان کی مگر اپنے مقصد سے کبھی نہیں ہٹے۔ نامور شاعر عزیز نواز خان ہلیو نے کہا کہ جان محمد جوونیجو نے وقت کے ظالم انگریز کو للکارا، مگر افسوس کہ اپنے ہمسفر کی بےوفائی اور افغان حکومت کی غداری کی وجہ سے وہ اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے۔
لاڑکانہ سماجی اتحاد کے چیئرمین شیخ حافظ بشیر احمد نے کہا کہ بئریسٹر جان محمد جوونیجو مسلمانوں کے وفادار اور صاحبِ بصیرت رہنما تھے، ان کی یاد کرنا دراصل خود کو یاد کرنے کے مترادف ہے۔ نوجوان مصنف خلیق میمن نے کہا کہ خلافت تحریک ہندوستان سے اُبھری لیکن بعد میں مسلمانوں نے احتجاج کیا اور ہجرت کی، مگر یہ تحریک ناکام ہوئی، اب اس پر تحقیق ہونا ضروری ہے۔پروگرام میں شاعر سمیع ساجد جونیجو نے بئریسٹر کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ بئریسٹر جان محمد جونیجو یادگار کمیٹی کے آرگنائزر زاہد علی جونیجو نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ پروگرام کی کارروائی دیدار علی شیخ نے سنبھالی۔ آخر میں قرارداد پیش کی گئی کہ بئریسٹر جان محمد جونیجو کے نصاب سے خارج شدہ سبق دوبارہ شامل کیا جائے۔اس موقع پر میر لیاقت علی عمرانی، محمد رفیق جونیجو، محمد عثمان جوونیجو، اعجاز سولنگی، محمد مٹھل بھٹو، صدام سولنگی، کامریڈ غلام رسول عمرانی، کامریڈ نصیر احمد کلھوڑو، اسلم شیخ، مسکین عیسیٰ، عابد جونیجو، آصف شیخ، سید فدا حسین شاہ، عبید آزاد جونیجو، فقیر محمد سندھی، صولت حسین گاد، زاہد علی چانڈیو اور دیگر بھی موجود تھے۔


