خيرپور: صحافی قلم کے امین ہوتے ہیں، سماج کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ڈاکٹر یوسف خشڪ
خيرپور: صحافی قلم کے امین ہوتے ہیں، وہ سماج کو آئینہ دکھاتے ہیں اور اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر یوسف خشک، وائس چانسلر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، نے سندھ چلڈرن اکیڈمی خیرپور کے زیرِ اہتمام نئے سال کی آمد کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر یوسف خشک نے مزید کہا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی لونگ فقیر والی اراضی کو کارآمد بنانے کے لیے ایک اہم منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے، جو تعلیمی اور تحقیقی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

یہ تقریب مچ کچہری، مشاعرے اور خیرپور کے متحرک صحافیوں کے لیے ایوارڈ تقریب پر مشتمل تھی۔ تقریب کی میزبانی نامور ادیب قربان منگی نے کی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ چلڈرن اکیڈمی اور پوپٹ پبلشنگ ہاؤس کئی دہائیوں سے علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں اور مسلسل علم و ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔تقریب میں خصوصی مہمان سعید منگی،
ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن، سندھ یونیورسٹی جامشورو، نے کہا کہ ثقافتی اور ادبی تقریبات زندگی میں رنگ بھر دیتی ہیں اور معاشرے کو فکری توانائی فراہم کرتی ہیں۔
اس موقع پر اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان خیرپور مسرت علی منگی نے کہا کہ خیرپور ہمیشہ سے علم و ادب کا مرکز رہا ہے اور یہ تقریب اسی روشن روایت کی ایک اہم کڑی ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ صاحب خان بھنڈ نے کہا کہ پوپٹ پبلشنگ ہاؤس اور سندھ چلڈرن اکیڈمی نے علمی شعور کی آبیاری اور فکری ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

نامور شاعر امراقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیا سال ادب اور کتابوں کی دنیا میں نئے راستے اور نئی جہتیں لے کر آئے۔مشاعرے کی نشست کی صدارت معروف شاعر فاتح میراںی نے کی، جبکہ ہاجرا ناز ملک، ابراہیم کوکر اور تاج سروہی بطور خصوصی مہمان شریک ہوئے۔
مشاعرے میں حبدار جاگيرانی، ضمیر لاشاری، منظور خاموش، فقیر ڦلیو، احمد علی مسافر، آزاد انصاری، ثریا سرہان گل، کفایت گل، سائل بھنبھرو، ساگر صفی اللہ شر، سلطان دیپر، کریم بلوچ سمیت دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔تقریب کی کارروائی روشن شیخ نے چلائی، جبکہ شریف عباسی نے شاہ لطیف کا کلام پیش کر کے محفل کو مزید بامعنی بنا دیا۔


