مولانا فضل الرحمن کا سکھر میں دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب
سکھر: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جامعہ حمادیہ سکھر میں منعقدہ دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی علوم اللہ کی خصوصی عنایت ہیں اور یہ انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر موجود اکابر علماء کرام، مشائخ عظام، وزرائے کرام، طلبہ اور بزرگان ملت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماضی کی طرح آج بھی جامعہ حمادیہ کا یہ اجتماع دینی و علمی خدمات کا عکاس ہے۔مولانا فضل الرحمن نے خطاب میں کہا کہ علم صرف دنیاوی ترقی اور معاشی فوائد کے لیے نہیں بلکہ انسان کی ہدایت اور معرفت کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو اہم خصوصیات عطا کی ہیں۔عقل اور زبان کی قوت، اور یہ دونوں خصوصیات علم کے حصول اور اس کی تدریس کے لیے بنیادی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دینی علوم کی روشنی میں عقل ہی انسان کو صحیح راہ دکھا سکتی ہے اور وحی کی رہنمائی کے بغیر عقل اندھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعے مسلمانوں کے لیے دین کامل کیا اور اسے ایک مکمل نظام حیات کے طور پر عطا فرمایا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو یہ علم حاصل ہے کہ اسلام کی حاکمیت اور دین کی عملی حکمرانی ہی تمام نعمتوں کی تکمیل ہے۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں موجودہ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی میں قرآن و سنت کے مطابق عمل نہیں کیا جا رہا اور اقوام متحدہ یا عالمی قوتوں کے دباؤ میں غیر اسلامی قوانین منظور کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ اسلامی قوانین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئین میں درج اصولوں کے مطابق شریعت کے نفاذ کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اور دینی تحریکیں ہمیشہ قائم رہیں گی اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ مردانہ وار اور اصولی سیاست کریں، اسلامی اقدار اور شریعت کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔انہوں نے زور دیا کہ جمعیت علماء اسلام کی قیادت میں پاکستان کو ایک مکمل اور کامل اسلامی ریاست بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
خطاب کے اختتام پر مولانا فضل الرحمن نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی اور طلبہ کی جدوجہد کو قبول فرمائے اور پاکستان کو ایک مستحکم اور اسلامی ریاست بنائے۔

رپورٹ رضوان لودھی


