لینس ڈاؤن برج پر پولیس تشدد کا واقعہ، رشوت نہ دینے پر شہری پر مبینہ تشدد، عوامی غم و غصہ، شدید احتجاج، ٹریفک معطل شفاف انکوائری اور اہلکار کی معطلی کا مطالبہ
سکھر: سکھر کے تاریخی لینس ڈاؤن برج پر اس وقت شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے میں آیا جب ایک پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر رشوت نہ دینے پر ایک شہری کو سرِعام بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے نے شہر بھر میں سنسنی پھیلا دی، جبکہ احتجاج کے باعث لینس ڈاؤن برج پر ٹریفک کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر معطل رہی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکار نے شہری کو معمولی بہانے پر روکا اور اس سے مبینہ طور پر پیسے طلب کیے۔ جب شہری نے رشوت دینے سے انکار کیا تو اہلکار طیش میں آ گیا اور سرِعام تشدد شروع کر دیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا،“اہلکار بار بار پیسے مانگ رہا تھا، انکار پر اس نے شہری کو مجرموں کی طرح مارنا شروع کر دیا۔ یہ قانون ہے یا جنگل کا راج؟”واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں شہری موقع پر جمع ہو گئے اور پولیس زیادتی، بدسلوکی اور مبینہ کرپشن کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی۔ مشتعل مظاہرین نے لینس ڈاؤن برج پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک روک دی، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافر شدید پریشانی میں مبتلا رہے۔ ایک مظاہرین نے کہا،
“آج اگر ہم خاموش رہے تو کل کسی اور کے ساتھ یہی ہوگا۔”احتجاج میں شریک شہریوں نے پولیس چیک پوسٹوں کو مبینہ طور پر بھتہ خوری کے اڈے قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے بنیاد روک ٹوک، تشدد اور رشوت طلب کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ ایک شہری کا کہنا تھا،
“یہ پولیسنگ نہیں بلکہ وردی میں منظم لوٹ مار ہے، جس کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔”مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات قانون اور انصاف کا کھلا مذاق ہیں۔ احتجاج کے دوران ایک بزرگ شہری نے کہا،
“وردی عوام کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے، انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں۔ چند کالی بھیڑیں پورے محکمے کی ساکھ خراب کر رہی ہیں۔”شہریوں نے ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف انکوائری کرائی جائے اور ملوث پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔واقعے نے ایک بار پھر پولیس میں احتساب، نگرانی اور عوامی اعتماد کے فقدان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات کا سدباب نہ کیا گیا تو پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید کمزور ہو جائے گا، جس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑیں گے۔


